| دِيوانِ حماسه |
حل لغات:
خَلَّف(تفعیل) فلانًا:پیچھے چھوڑنا۔جانشین بنانا،وارث چھوڑنا۔مؤخر کرنا،پیچھے کرنا۔الشیئَ:وراثت چھوڑنا۔العِبْأُ:بوجھ،گٹھری۔بوری۔ج:اَعْبَاءٌ۔3۔۔۔۔۔۔
وَوَرَاءَ الثَّأرِ مِنِّی ابْنُ اُخْتٍ مَصِعٌ عُقْدَتُہ، ما تُحَلُّترجمہ:
اور میرے انتقام کے پیچھے ایسا سخت جنگجو بھانجا ہے جس کی گرہ کو کھولا نہیں جاسکتا۔
مطلب:
میں مقتول کا انتقام لوں گا اگر میں قتل ہوگیاتو میر ابدلہ لینے کے لئے پرعزم ، ہروقت انتقام کے لئے مستعد رہنے والا ، سخت جنگجومیرا بھانجا ہے۔
''عُقْدَتُہ، ما تُحَلُّ''اس کے دومطلب ہوسکتے ہیں۔
(الف)اس کے ارادہ وعزم اور جس بات کا فیصلہ کرلیتاہے اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔
(ب)اس کی طاقت و سختی کوکوئی ختم نہیں کرسکتایعنی پیدائشی طور پر انتہائی مضبوط ہے اور تکالیف پر صبر کرنے میں مستحکم ہے۔اگلے شعرمیں اس کی مزید خوبیاں بیان کررہاہے۔
حل لغات:
مَصِعٌ:کپڑے کا گولا بناکر کھیلنے والا۔ج:مُصْعٌ۔ رَجُلٌ مَصِعٌ:
بہادر۔
4۔۔۔۔۔۔
مُطْرِقٌ یَرْشَحُ سَمًّا کَمَا اَطْرَقَ اَفْعٰی یَنْفِثُ السَّمَّ صِلُّترجمہ:
سرجھکاکرایسے زہر اگلتاہے جیسے زہریلا سانپ سرجھکاکر چھوٹے زرد منہ سے زہر اگلتاہے۔
حل لغات:
مُطْرِقٌ:فا(افعال)اَطْرَقَ:اپنے سر کو سینے کی طرف جھکانا اور خاموش رہنا ، بات نہ کرنا۔یَرْشَحُ:رَشَحَ الاِنَاءُ(ف)رَشْحًا:
بر تن کا ٹپکنا،رسنا۔
السُّمُّ:وَالسِّمُّ ، والسَّمُّ:
زہر ،زہریلامادہ۔ہر باریک سوراخ جیسے سوئی کا ناکا،کان او ر ناک کا سوراخ۔
فی القرآن المجید:
( حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ )۔(7/40)
ج:سُمُومٌ وسِمَامٌ۔ اَفْعٰی:
بڑا سانپ، خبیث قسم کا سانپ۔اس کی بہت سی قسمیں ہیں اورہر ایک زہریلا ہوتاہے ۔