فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔(2/144)
وقال تأبّط شرًّا (المدید)
شاعرکا تعارف:
شاعر کا نا م ثابت بن جابربن سفیان ہے(متوفی 80ق۔ھ/540ء)اوریہ جاہلی شاعر ہے۔''تَاَ بَّطَ شَرًّا''کی دو وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہیں ۔ پہلی یہ ہے کہ یہ بغل میں تلوار چھپائے نکل گیا اس کی ماں سے پوچھاگیاکہ وہ (ثابت)کہاں ہے؟ تواس نے کہا:
لَااَدْرِیْ!تَاَ بَّطَ شَرًّا وَخَرَجَ:
مجھے معلوم نہیں !وہ بغل میں برائی کو دباکر چلاگیا۔ دوسری یہ ہے کہ یہ ایک دن بغل میں چھری چھپاکر اپنی قوم کی محفل میں چلاگیااور کسی کو چھری ماردی تو اس وقت ''تَاَ بَّطَ شَرًّا '' کہا گیا۔
1۔۔۔۔۔۔
اِنَّ بِالشِّعْبِ الَّذِیْ دُوْنَ سَلْعٍ لَقَتِیْلًا دَمُہ، ما یُطَلُّ
ترجمہ:
بے شک وہ گھاٹی جوکوہِ سلع کی اس جانب ہے وہاں ایک ایسا مقتول ہے جس کا خون رائیگاں نہیں جاسکتا۔
حل لغات:
الشِّعْبُ:دوپہاڑوں کے درمیان کی کھلی جگہ ۔ج:شِعَابٌ۔ راستہ۔ زمین کے نیچے پانی کی گذرگاہ۔
2۔۔۔۔۔۔
خَلَّفَ الْعِبْأَ عَلَیَّ وَوَلّٰی اَنَا بِالْعِبأ لہ مُسْتَقِلّ
ترجمہ:
اس نے مجھ پر بوجھ ڈال کر پیٹھ پھیرلی، یقینامیں اس کے بوجھ کو اٹھا ؤں گا۔