| دِيوانِ حماسه |
مطلب:
قبیلہ مازن بن مالک بن عمرو بن تمیم ،یہ العنبر بن عمرو بن تمیم کے بھائی کی اولاد ہیں۔خود شاعرکا اپناتعلق بھی قبیلہ بنو العنبرسے ہے اورشاعر کانسب عمرو بن تمیم میں جاکر قبیلہ مازن سے مل جاتا ہے اور قبیلہ مازن میں شدید عصبیت پائی جاتی تھی جس کی بنا ء پروہ لوگوں میں مشہورومعروف تھے اور لوگ ان کی تعریف کیا کرتے تھے، شاعر ان پر فخر کرتے ہوئے ان کی تعریف کررہا ہے اور شاعر کا ان کی تعریف کرنااپنے ہی قبیلے کی تعریف کرنا ہے ؛کیونکہ یہ آپس میں رشتہ دارہیں اورساتھ ہی وہ اپنے قبیلے کو انتقام پربھی ابھار رہاہے،ان کی ہجو نہیں کررہا؛کیونکہ اس طرح تو اس کی اپنی مذمت بھی ہوگی۔
حل لغات:
مَازِنٌ:چیونٹی کے انڈے ، یہاں قبیلے کانام ہے۔لَمْ تَسْتَبِحْ:(استفعال)اِسْتَباحَ الشیئَ:
کسی چیز کو مباح بنانا ،کسی پراِقدام کرنا، قوم کی بیخ کنی کرنا۔اور مجرد سے باحَ(ن)بَوْحاً:کسی چیز کاظاہر ہونا ۔اِبِلٌ:اونٹ۔ یہ اسم جمع ہے ۔
اسم جمع کی تعریف:
و ہ لفظ جو جمع کے معنی دے اور اسی مادہ سے اس کے لئے کو ئی مفرد نہ ہو،اسے اسم جمع کہتے ہیں ۔
ج :آبال، فی القرآن المجید:
(أَفَلَا یَنظُرُونَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ) [الغاشیۃ: 17]
ترجمہ کنز الایمان:''تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا''۔عربی مقولہ ہے:
اِبِلِیْ لَمْ اَبِعْ وَلم اَھَبْ:
میں نے اپنااونٹ بیچا ہے نہ ہی بخشاہے ۔ بَنُو:مف:اِبْن:بیٹا۔ج:اَبْنَاءٌ وبَنُون۔ شعرمیں اضافت کی وجہ سے نونِ جمع حذف ہوگیا۔
(قَالَ آمَنتُ أَنَّہُ لا إِلَہَ إِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُو إِسْرَائِیلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ) [یونس: 90]
ترجمہ کنز الایمان:''بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں''۔ اَللَّقِیْطَۃُ:رذیل مرد یاعورت ۔ج:لَقَائِطُ۔گویا کہ شاعر ذہل بن شیبان کو عار دلا رہاہے کہ وہ مجھول النسب اور رذیل خاتون کی اولاد ہیں۔اور ایک روایت میں بنو''الشقیقہ''ہے ۔
2۔۔۔۔۔۔
اذًا لَقَامَ بِنَصْرِیْ مَعْشَرٌخُشُنٌ عِنْدَ الْحَفِیْظَۃِ اِنْ ذُوْ لُوْثَۃٍ لَانَاترجمہ:
تب تو میری مددکے لئے بہادروں کی ایک ایسی جماعت کھڑی ہوتی جو واجب ا لحفاظت چیز کی حفاظت کے وقت سخت ہے اگر کمزور لوگ نرمی کامظاہرہ کرتے ۔
حل لغات:
قَامَ:(ن)قَوْمًا:کھڑا ہونا،سیدھا ہونا۔فی القرآن المجید:
(وَأَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللہِ یَدْعُوہُ)
[الجن: