فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ۔(17/23)
1۔۔۔۔۔۔
تقولُ اَلا تَبْکِیْ اَخاکَ وقد اَرٰی مَکانَ الْبُکا لٰکِنْ بُنِیْتُ عَلَی الصَّبْرٖ
ترجمہ:
میری بیوی کہتی ہے: اپنے بھائی پر کیوں نہیں روتااورتحقیق میں بھی سمجھتاہوں کہ رونے کا موقع ہے لیکن میری بنیاد صبر پر رکھی گئی ہے۔
2۔۔۔۔۔۔
فَقُلْتُ اَعبدَاﷲِ اَبْکِیْ اَمِ الَّذِیْ لَہُ الْجَدَثُ الْاَعْلٰی قَتِیْلَ اَبِی بَکْرٖ
ترجمہ:
میں نے کہا:کیا عبداﷲ پر رؤوں یااس پر جس کی قبرعظمت والی ہے جسے آل ابوبکر نے قتل کیا۔
حل لغات:
اَلجَدَثُ:قبر۔ج:اَجْدَاثٌ۔
وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَاِذَا ہُمۡ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمْ یَنۡسِلُوۡنَ ۔(36/51)
3۔۔۔۔۔۔
وعَبْدَ یَغُوْثٍ تَحْجُلُ الطَّیرُ حَوْلَہٗ وعَزَّالْمُصابُ حَثْوَ قبرٍ علی قَبْرٖ
ترجمہ:
یا عبدیغوث پر رؤوں جس کے اردگرد پرندے چھلانگ لگارہے ہیں اور یکے بعد دیگرے قبر کھودنا بڑی مصیبت ہے۔
حل لغات:
''عَبْدَ یَغُوْثٍ''شاعر کے بھائی کانام ہے اورضرورت شعری کی وجہ سے تنوین آئی ہے۔تَحْجُلُ: