(وَأَنَّی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَکَانٍ بَعِیْدٍ)(34/52)
اَلصّیَاصِی:مف:اَلصِّیْصَۃُ:کاتنے کا تکلا۔تانابانا وغیرہ صاف کرنے کا برش۔ اَلنّسِیجُ:بُناہوا ۔
8۔۔۔۔۔۔
وکنتُ کَذاتِ الْبَوِّ رِیْعَتْ فَاَقْبَلَتْ اِلٰی جَلَدٍ مِنْ مَّسْکِ سَقْبٍ مُّقَدَّدٖ
ترجمہ:
اور میں اس اونٹنی کی طرح ہوگیاجس کے بچے کی کھال میں بھوسہ بھردیاگیاہووہ ڈرائی گئی تو اپنے بچے کی کٹی ہوئی کھال کی طرف متوجہ ہوئی۔
مطلب:
جب میں مقتول کے پاس آیاتومیری حالت اس اونٹنی کی طرح ہوگئی جو اپنے بچے سے دور چراگاہ میں چررہی ہوپھر اسے اپنے بچے کااندیشہ ہوااوراس کی طرف بھاگی تواسے ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی کھال پایا۔
فائدہ:
مادہ جانور کوچرتے ہوئے اچانک اپنے بچے کاخیال آتا ہے اور وہ اس کی طرف دوڑتی ہے۔
حل لغات:
الْبَوُّ:اونٹنی کابچہ ۔اونٹنی وغیرہ کے مردہ بچے کی کھال جس میں گھاس وغیرہ بھرکر اس کی ماں کے سامنے کردیتے ہیں تاکہ دودھ دوہنے میں آسانی ہو۔ مَسْکٌ:کھال۔ج:مُسُکٌ۔ سَقْبٌ:اونٹنی کا نو زائیدہ نر بچہ۔لمبا اور بھرپور جسم والایا کوئی شئ۔خیمے کا ستون ۔ ج:اَسْقُبٌ۔