| دِيوانِ حماسه |
جارہ کا تکرار ہے۔ تلوی:(افعال)بالشیئِ:کسی چیز کو لے جانا۔فلانٌ:کسی کی کھیتی خشک ہونا۔اپنے لئے یا مہمان کے لئے رکھی ہوئی چیز کا کھانا۔نَکْبَاٗءُ:بے رخ ہواجو شمال ومشرق کے درمیان چلے ۔ ج:نُکْبٌ۔ اَلکَنِیفُ:پردہ۔پردہ کرنے والا ۔ ڈھال ۔ مویشیوں کے لئے درختوں کا باڑا۔پاخانہ۔ دروازے کے اوپر چھجّا۔ ج:کُنْفٌ۔ اَلمُوصَدُ:بند ۔ بَابٌ مُوصَدٌ:بند دروازہ۔
3۔۔۔۔۔۔
فَالْیومَ اَضْحَوْا لِلْمُنُوْنِ وَسِیْقَۃً مِنْ رَّائِحٍ عَجِلٍ وآخَرَ مُغْتَدٖترجمہ:
تو آج وہ موت کی طرف ہانکے گئے ، کوئی تو شام کو جلدی جارہاہے اور کوئی صبح کو۔
حل لغات:
وَسِیْقَۃٌ:اونٹوں وغیرہ کی ڈارجسے دشمن ہانک کر لے جائے۔حاملہ اونٹنی۔4۔۔۔۔۔۔
خَلَتِ الدِّیارُ فَسُدْتُّ غیرَ مُسَوَّدٍ ومِنَ الشَّقاءِ تَفَرُّدِیْ با لسُّوْدَدٖترجمہ:
شہر خالی ہوگئے میں سردار بنائے بغیر سردار بن گیااورمیرا سرداری کے لئے اکیلارہ جانا بد بختی ہے
حل لغات:
اَلسُّودَدُ:واَلسُّودُدُ:سرداری،بڑائی،عظمت۔وقال محمدُ بنُ بَشیرٍ اَلْخارِجِیُّ (الکامل)
شاعر کانام:
محمد بن بشیر ہے اور یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔1۔۔۔۔۔۔ نِعْمَ الْفَتٰی فَجَعَتْ بِہٖ اِخْوَانَہ، یومَ الْبَقِیْعِ حَوَادِثُ الایامٖ
ترجمہ:
کتنااچھاہے وہ نوجوان جس کی وجہ سے بقیع کے دن اس کے بھائیوں کو حوادث زمانہ نے غمگین کیا۔
حل لغات:
فَجَعَتْ:فَجَعَہ، (ف)فَجْعًا:سخت تکلیف پہنچانا۔