2۔۔۔۔۔۔
مِنْ کُلِّ فَیَّاضِ الْیَدَیْنِ اِذا غَدَتْ نَکْباءُ تُلْوِیْ بِالْکَنِیفِ المُوْصَدٖ
ترجمہ:
زمانے نے دونوں ہاتھوں سے سخاوت کرنے والے لوگوں کاخون پیا، جب بے رخی ہوابند باڑوں کو تھپیڑے مارتی ہوئی چلی۔
مطلب:
زمانے نے ایسے لوگوں کو بھی ہلاک کردیا جو سخت قحط سالی میں کشادہ دلی سے سخاوت کیا کرتے تھے۔پہلے زمانے میں جب سخت قحط سالی ہوتی اور لوگ اپنی جانوں سے مایوس ہوجاتے تو باڑے بناکر ان میں بیٹھ جاتے اور دروازے بند کردیتے تھے تاکہ مرنے کے بعد بھیڑیے اور دیگر درندے ان کی لاشیں نہ کھاسکیں۔
حل لغات:
فَیّاض:بہت پانی ۔رَجُلٌ فَیَّاضٌ:بہت بخشش کرنے والا ۔
مِنْ کُلِّ فَیَّاضِ الْیَدَیْنِ
بدل ہے ''مِنْ آلِ عَتَّابٍ''سے اس میں عامل (من جارہ)کااعادہ کیااوریہ مجرور میں زیادہ ہوتاہے اسی کے مطابق اﷲتعالی کافرمان ہے۔
(قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِن قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْہُم) (7/75)