قریط بن أنیف ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں اورشرح مرزوقی کے حاشیہ میں ہے
(شرح دیوان الحماسۃج1ص20بیروت)
بنو شیبان کے کچھ لوگوں نے شاعر پر حملہ کیا اور اس کے تیس اونٹ لوٹ کر چلے گئے، تو شاعر نے اپنی قوم سے مدد طلب کی لیکن انہوں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔اب وہ مجبورا ً بنو مازن کے پا س گیا اور انہیں لٹیروں کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے ہوئے اپنا حق واپس لینے کے لئے مدد کی اپیل کی، اس کی درخواست پربنو مازن کے چند سوار اس کے ساتھ چل پڑے اور بنو شیبان پر حملہ کرکے سو اونٹ ہانک کر لے آئے اور اس کے حوالے کر دیئے اور بحفاظت اسے گھر پہنچادیا۔ اس پر شاعر نے بنو مازن کی جرأ ت وبہادری کو بیان کر تے ہوئے اور تہہ دل سے ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے یہ اشعار کہے ؛کیونکہ
''اَلانسانُ عبدُ الاحسانِ''
(انسان احسان کا غلام ہے) ۔
لفظ''بَلْعَنْبَر''کی تحقیق :
یہ اصل میں بَنِیْ الْعنبر تھا، پھر اجتماع ساکنین علیٰ غیر حدہ کی وجہ سے یا ء کو حذف کر دیا، پھر نون کو لام کے مشابہ ہونے اور کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کیاگیا تو یہ ''بلعنبر''ہوگیا۔اورحذف نون پر دلیل یہ ہے:کہ''بلعنبر''کی راء پر تنوین (دو زیر)نہیں آتی۔ اس سے معلوم ہواکہ ''بلعنبر''میں با حر ف جرنہیں بلکہ لفظِ بنی کی ہے۔
1۔۔۔۔۔۔
لَوْ کُنْتُ مِنْ مَازِنٍ لَمْ تَسْتَبِحْ اِبِلِیْ بَنُواللَّقِیْطَۃِ مِنْ ذُھْلِ ابْنِ شَیْبَانَا
ترجمہ:
ـ اگر میں قبیلہ مازن سے ہوتا تو مجہول النسب یعنی ذہل بن شیبان میرے اونٹوں کو مباح نہ سمجھتے ۔