ترجمہ:
مگر (ہائے افسوس)حو ض اس شخص کا ہے جس کے بھائیوں کو حوادث زمانہ نے ہلاک کردیا تو وہ شتر مرغ کے انڈے کی طرح ہوگیا۔
مطلب:
اس شعر میں شاعر نے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ میرے مدد گار مجھ سے جدا ہو گئے اور اب میں بے یارومددگار رہ گیاہوں جیسا کہ شترمرغ کا انڈہ، کیونکہ شترمرغ جب کسی جگہ پر انڈہ دیتاہے تو اسے بھول جاتاہے اس طرح وہ انڈہ ضایع ہوجاتاہے ،یعنی خود کو شتر مرغ کے انڈے سے تشبیہ دی ہے ۔اور وجہ تشبیہ ضعف وکمزوری ہے۔
حل لغات:
اَوْدَی:(افعال)اَوْدٰی:ہلاک ہونا۔بَیضَۃُ البَلَد:اس سے مراد شتر مرغ کا انڈا ہے ،او رایک قول کے مطابق اس سے مراد زمین سے اگنے والی کھنبی ہے ۔
3۔۔۔۔۔۔
لوکان یُشْکٰی اِلَی الْاَمْوَاتِ مالَقِیَ الْاَحْیاءُ بعدَھم مِنْ شِدَّۃِ الْکَمَدٖ
ترجمہ:
اگر فوت شدہ لوگوں سے اس سخت غم کی شکایت کی جاسکتی جو ان کے بعدزندہ لوگوں کو لاحق ہوتا ہے۔
حل لغات:
اَلْکَمَدُ:رنگ کابدلنا اور اس کی صفائی کا جاتا رہنا۔رنج ۔سخت غم۔
4۔۔۔۔۔۔
ثُمَّ اشْتَکَیْتُ لَاَشْکانِیْ وَساکِنُہ، قبرٌ بِسِنْجارَ أو قبرٌ عَلٰی قَھَدٖ