ترجمہ:
بے شک تو عہد کرنے والے سے دور نہیں،کیوں نہیں!بلکہ ہروہ شخص جو مٹی کے نیچے ہے دور ہے ۔
مطلب:
جس نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تیرا ذکر خیر اور تیری قبر کی زیارت کرتارہے گا وہ عہد کو نہیں بھولا یعنی اس پر عمل پیرا ہے لہٰذا تو اس کے قریب ہی ہے ،لیکن حقیقت تویہ ہے کہ جو فوت ہو کر دفن ہوگیا وہ دور ہی ہے۔
شاعر کانام:
صنان بن عبادی شکری ہے اوریہ جاہلی شاعر ہے ۔
اشعار کا پس ِ منظر:
ایک دن شمط بن عباداِس کے پاس آیا اورا س کا حوض پانی سے بھر ا ہوا تھا ، شمط نے اپنے ہاتھ سے خودپانی لیا اور اپنے اونٹوں کوبھی پلایا تو اس موقع پر شاعر نے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔
لوکان حَوْضَ حِمَارٍ ماشَرِبْتَ بِہٖ اِلَّا بِاِذْنِ حمارٍ آخِرَ الْاَبَدٖ
ترجمہ:
اگر حوض حمار کا ہوتاتو تُو کبھی بھی اس سے حمار کی اجازت کے بغیر نہ پی سکتا۔
فائدہ:
لفظ حمارکا تکراراس لئے ہے کہ؛ اہل عرب اعلام یاجوان کے قائم مقام ہو اور اسماء اجناس میں حصول تعظیم کے لئے