| دِيوانِ حماسه |
حل لغات:
الشجا:مص۔ شَجِیَ(س)شَجًا:گلے میں ہڈی وغیرہ اٹکنے سے تکلیف میں مبتلاہونا۔رنجیدہ وغمگین ہونا۔کسی کی یاد میں تڑپنا۔وقال اَبُوْعطاءٍ السِّنْدِیُّ (الطویل)
شاعر کاتعارف:
شاعر کانام ابو عطاء افلح بن یسار سندھی ہے (متوفی180ھ /796ء ) اور یہ غبر بن سماک بن حصین کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان کے والد سند ھی عجمی تھے۔اور یہ بنو امیہ وبنو عباس کے دور کے مخضر می اسلامی شاعر ہیں۔
اشعار کا پس منظر:
ان کے بیٹے ہبیرہ کو منصور نے امن دینے کے بعدمقام واسط میں قتل کردیاتوان کا مرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے۔1۔۔۔۔۔۔
اَلاَ اِنَّ عَیْنًا لم تَجُدْ یَوْمَ وَاسِطٍ عَلَیْکَ بِجَارِیْ دَمْعِھا لَجُمُود،ترجمہ:
خبردار!جس آنکھ نے واسط کے دن تجھ پر اپنے آنسو بہا کر سخاوت نہیں کی یقینا اس نے کنجوسی کی۔
حل لغات:
جُمُودٌ:صفت۔جَمَدَ(ن)جَمْدًا:جم جانا۔عَینُہ،:آنکھ کے آنسو کا بندہونا۔2۔۔۔۔۔۔
عَشِیَّۃَ قامَ النَّائِحَاتُ وشُقِّقَتْ جُیُوبٌ بِأَیْدِیْ مَأْتَمٍ وَخُدُوْد،ترجمہ:
جس شام نوحہ کرنے والی خواتین کھڑی ہوئیں اور ماتم کرنے والے ہاتھوں سے گریبان چاک کئے گئے اور رخسار پیٹے گئے ۔
حل لغات:
شُقِّقَتْ:(تفعیل)شَقَّقَہ،:زیادہ پھاڑنا،زیادہ چیرنا،دراڑیں ڈالنا۔فی القرآن المجید:
(إِذَا السَّمَاء انشَقَّت)(84/1)
جُیُوبٌ:مف:جَیبُ القَمِیْص:
گریبان ۔
(وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ) (24/31)
مَاتمٌ:لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ ۔اور اس لفظ کااطلاق بیشتر اس مجمع پرہو تا ہے جو اظہار غم کے لئے