| دِيوانِ حماسه |
شاعر کا تعارف:
شاعر کا نام متمم بن نویرہ ہے(متوفی30ھ/650ء)یہ مخضرمی شاعرہیں اور انہیں شرف ِ صحابیت حاصل ہے۔یہ شاعر اپنے بھائی مالک کامرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہتے ہیں۔1۔۔۔۔۔۔
ولقد لامَنِیْ عندَ القُبُوْرِ عَلَی الْبُکا رَفِیْقِیْ لِتَذْرَافِ الدُّمُوْعِ السَّوَافِکٖترجمہ:
تحقیق میرے دوست نے مجھے قبروں کے پاس پے درپے آنسو بہاکر رونے پر ملامت کی ۔
حل لغات:
تَذْرَافٌ:مص:(تفعیل)ذَرَّفَ الدَّمْعَ:آنسو بہانا ۔السوافک:مف:السَّافِک:سَفَکَہ،(ض) سَفْکًا:بہانا،گرانا۔فی القران المجید:
(قَالُوْا أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء) (2/30)
2۔۔۔۔۔۔
فقال أَتَبْکِیْ کُلَّ قبرٍ رَأَیْتَہ، لِقبرٍ ثَوٰی بَیْنَ اللِّوٰی فَالدَّکادِکٖترجمہ:
دوست نے کہا:کیا تو ہر قبر کودیکھ کر روتاہے اس قبر کی وجہ سے جو لوی اور دکادک کے درمیان میں ہے۔نہ پوچھوہم نشینو تم میرے آنسو کہ دریاہے امڈ آتاہے جس دم پھر کوئی روکے سے رکتاہے
حل لغات:
ثَوَی:بِالمَکانِ وفیہِ(ض)ثَوَاءً:
ٹھہرنا،قیام کرنا۔
فی القرآن المجید:
( وَمَا کُنۡتَ ثَاوِیًا فِیۡۤ اَہۡلِ مَدْیَنَ تَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِنَا ۙ وَلٰکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیۡنَ ) (28/45)
اللوی، الدکادک:جگہوں کے نام ہیں۔
3۔۔۔۔۔۔
فَقُلْتُ لَہٗ اِنَّ الشَّجا یَبْعَثُ الشَّجا فَدَعْنِیْ فَہٰذا کُلُّہ، قبرُ مالِکٖترجمہ:
تو میں نے اس سے کہا :بے شک غم ،غم کو بھڑکاتاہے تو مجھے چھوڑدے یہ تمام مالک (ہی)کی قبریں ہیں۔