| دِيوانِ حماسه |
مراثی:مف:اَلْمَرْثِیَۃُ:نوحہ خانی۔مرثیہ:وہ اشعار یا کلمات جن کے ذریعے مردے پر اظہار غم کیا جائے۔یہ مصدر میمی بھی ہے، رَثَی الْمَیِّتَ(ض)رَثْیًا ومَرْثِیَۃً:مردے پر رونا اور اس کے محاسن بیان کرنا۔
قَالَ اَبُوْ خِرَاشٍ الھُذَلِیُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف:
شاعر کا نام ابو خراش خویلد بن مرہ ہے(متوفی 15ھ/736ء)اور یہ مخضرمی شاعر ہیں، یہ حنین کے دن بڑھاپے کی حالت میں اسلام لائے، عر ب کے مشہور شہسواروں میں سے ہیں ،یہ ایسے سبک رفتار تھے کہ پید ل گھڑ سواروں سے سبقت لے جا یا کرتے تھے ۔
اشعار کا پس ِ منظر:
شاعر کے بیٹے ''خراش''اور بھائی''عروہ ''دونوں صبح کے وقت سفر میں تھے تو بنو رزام اور بنو بلّال نے انہیں کسی جرم کی پاداش میں گرفتار کرلیاپھر انہوں نے ''خراش''اور''عروہ ''کو قتل کرنے یا زندہ چھوڑدینے میں اختلاف کیا، بنو بلّال نے عروہ کو قتل کردیا اور بنو رزام کے کسی شخص نے''خراش''پراپنی چادر ڈال کراسے پناہ دی اس لئے انہوں نے اسے زندہ چھوڑدیا، جب''خراش''نے واپس آکر اپنے باپ کومذکورہ واقعہ سنایا تو اس موقعے پرشاعر نے یہ اشعار کہے۔1۔۔۔۔۔۔
حَمِدْتُّ اِلٰہِیْ بَعْدَ عُرْوَۃَ اِذْ نَجَا خِرَاشٌ وَبَعْضُ الشَّرِّ اَھْوَنُ مِنْ بَعْضٖترجمہ: میں نے عروہ کے بعد اﷲکی حمد کی جب خراش نے نجات پائی اور بعض مصیبتیں بعض سے ہلکی ہوتی ہیں۔ حل لغات:
حَمِدْتُّ:حَمِدَ ہٗ(س)حَمْدًا:
تعریف کرنا۔فلانًا:شکریہ ادا کرنا۔عربی مقولہ ہے:
''مَنِ اشْتَرَی الْحَمْدَ لَمْ یُغْبَنْ''
جس نے تعریف خرید لی اسے خسارہ نہ ر ہا۔ حمدکی تعریف:
اَلحَمْدُ ھوَ الثَّنَاءُ عَلَی الجَمِیلِ من جِھَۃِ التَعْظِیمِ من نِعْمَۃٍ وغَیرِھا:
حمدکسی اچھے وصف پربطور تعظیم