Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
248 - 324
وقال الراعی (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کانام نمیرعبیدبن حصین ہے(متوفی97ھ)یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

        کَفَانِیْ عِرِفَّانُ الْکَرٰی وَکَفَیْتُہ،                         کُلُوْءَ النُّجُوْمِ وَالنُّعاسُ مُعانِقُہ،
ترجمہ:

     ''عرفان''مجھے سونے سے کافی ہوا اور میں ستارے گننے کے لئے اسے کافی ہوااس حال میں کہ نیند اس سے معانقہ کررہی تھی ۔

مطلب:

     عرفان ساری رات سویا رہا،میرے حصے کی نیندبھی اس نے کی اور میں ساری رات بیدار رہا۔
1۔۔۔۔۔۔

            فَبَاتَ یُرِیْہِ عِرْسَہ، وبَناتِہٖ                    وَبِتُّ اُرِیْہِ النَّجْمَ اَیْنَ مَخَافِقُہ،
ترجمہ:

    تو اس نے رات اس حال میں گذاری کہ اس کی نیند اسے بیوی اور بیٹیاں دکھارہی تھی اورمیں نے رات اس حال میں گذاری کہ اسے دکھارہاتھاکہ ستارے کہاں غروب ہوتے ہیں۔

حل لغات:

    عِرْسٌ:دلہن۔ج:اَعْرَاسٌ۔مَخَافِقُ:مف:مَخْفِقٌ:غروب ہونے کی جگہ۔
وقال آخرُ (الوافر)
1۔۔۔۔۔۔

          فَلَسْتُ بِنازِلٍ اِلَّا اَلَمَّتْ                     بِرَحْلِیْ اَوْ خِیَالَتُھَا الْکَذُوْب،
ترجمہ:

    میں جہاں بھی قیام کرتاہوں تومیری منزل میں محبوبہ آجاتی ہے یا اس کا جھوٹا تصور ۔

مطلب:

    اَلَمَّتْ بِرَحْلِیْ''سے مراد یہ ہے کہ بیداری کی حالت میں محبوبہ کا تصور آجاتا ہے اور''خِیَا لَتُھَا الْکَذُوْب،''
Flag Counter