شاعر کا تعارف :
شاعر کانام جُندَب بن عمارہے،یہ اسلامی شاعر ہیں اور جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے۔
1۔۔۔۔۔۔
زَعَمَ الْعَوَاذِلُ اَنَّ نا قَۃَ جُنْدَبٍ بِجُنُوْبِ خَبْتٍ عُرِّیَتْ واُجِمَّتٖ
ترجمہ:
ملامت کرنے والیوں نے سمجھا کہ جُندَب کی اونٹنی صحراء ِ خبت کے کنا رے سوار کے بغیر کھڑی ہو کر تھکاوٹ دور کررہی ہے۔
حل لغات:
اُجِمَّتٖ:(افعال)اَجَمَّ الاِنسَانُ والفَرَسُ:
تھکان اتارنا،تازہ دم ہونا۔
2۔۔۔۔۔۔
کَذَبَ الْعَوَاذِلُ لَوْ رَأیْنَ مُنَاخَنَا بِالْقادِسِیَّۃِ قُلْنَ لَجَّ وجُنَّتٖ
ترجمہ:
ملامت کرنے والیوں نے جھوٹ بولا، اگروہ قادسیہ میں ہماراپڑاؤدیکھتیں تو کہتیں جُندَب جنگ میں شریک ہوااور اونٹنی پاگل ہوگئی۔
لَجَّ:فِی الاَمْرِ(ض)لَجًّا:
کسی کام میں پڑے یا لگے رہنا۔لَجَّ فی الاَمْرِ(س)لَجَاجًا:کسی کام میں لگے رہنا،ہٹنے کو تیار نہ ہونا۔
(مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّوا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ) (23/75)
جُنَّت: جَنَّ(ض)جَنًّا:عقل زائل ہونا،دیوانہ ہوجانا۔