| دِيوانِ حماسه |
6۔۔۔۔۔۔
ولم یَکُ فِیْ بُؤسٍ اِذَا باتَ لَیْلَۃً یُنَاغِیْ غَزَالًا فَاتِرَ الطَّرْفِ اَکْحَلَاترجمہ:
گویا کہ نوجوان کبھی تنگ دست نہیں رہا جب ہرنی جیسی نر م ونازک سر مگی آنکھوں والی محبوبہ سے بات چیت کرتے ہوئے رات گذارے۔
حل لغات:
بُؤسٌ:غربت،تنگ دستی۔یُنَاغِی:(مفاعلۃ)نَاغٰی فلانًا:کسی سے مبہم بات کرنا۔ غَزَالًا:ہرنی کا بچہ۔ج:غِزْلَۃٌ وغِزْلَانٌ۔ فَاتِرٌ:طَرْفٌ فَاتِرٌ:
خمار آلود نگاہ۔ اَکْحَلُ:سرمگیں مرد ۔اَلْکَحْلاءُ:(مؤنث )وہ عورت جس کی آنکھیں بہت سیاہ ہوں۔
7۔۔۔۔۔۔
اِذَاجانِبٌ اَعْیَاکَ فَاعْمِدْ لِجانِبٍ فَاِنَّکَ لاقٍ فی بِلادٍ مُعَوَّلاترجمہ:
جب کوئی طرف تجھے عاجز کردے تو دوسری طرف کا ارادہ کر لے بے شک بہت سے مقامات پر تجھے قابل اعتمادلوگ مل جائیں گے ۔وقال بعضُ بَنِیْ طَیِّءٍ (السریع)
1۔۔۔۔۔۔
اِنْ اَدَعِ الشِّعْرَ فَلَمْ اُکْدِہٖ اِذْ اَزَمَ الْحَقُّ عَلَی الْباطِلِترجمہ:
اگر میں شعرکہنا چھوڑدوں تو اُس سے اُکتانہیں گیا،جب حق نے باطل کو کا ٹ کر رکھ دیا۔
حل لغات:لم اُکْدِ:اکدی الحافرُ:
کھدائی کرنے والے کا کھودتے کھودتے سخت زمین تک پہنچنا۔فلانٌ:جنگل میں پہنچ جانا۔اصرار کے ساتھ مانگنا،بھیک مانگنا۔بخل وکنجوسی کرنا۔
فی القران المجید:
(وَأَعْطَی قَلِیْلاً وَأَکْدَی) (34/53)
خوش حالی کے بعد غریب و مفلس ہونا۔ناکام رہنا،مقصد حاصل نہ کرسکنا۔ :اَزَمَ:علی الشیئِ(ض)