Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
244 - 324
مطلب:

    مہمان انہیں اتنا عزیز اور پیارا اوران کی پناہ میں وہ اس طرح محفوظ ہوتاہے جس طرح پہاڑ کی بلند چوٹی پر رہنے والا شکارسے بے خوف اور محفوظ ہوتاہے؛ کیونکہ طاقتور پرندوں کے گھونسلے بھی اس سے نیچے ہیں یعنی اس تک پرندے بھی نہیں پہنچ سکتے چہ جائےکہ شکاری پہنچے ۔ اس شعرمیں''صدع'' مشبہ بہ اور بنوشیبان کا مہمان مشبہ اور وجہ تشبیہ حفاظت ہے۔

حل لغات:

    صَدَعٌ:چھریرے بد ن کا آدمی۔مضبوط جوان۔شعرمیں پہاڑی جوان بکرا مراد ہے۔ شَاھِقَۃٌ:بلند وبالا۔ عِتَاقٌ:مف:اَلعَتِیق:پرانا۔آزاد کردہ غلام ۔ کریم ۔ عمدہ۔ اَوْکَارٌ :مف:اَلوَکْرُ:گھونسلہ۔
                         وقال آخرُ (الطویل)
شاعر کانام:

    اخنس طائی ہے ۔اورالبیان وتبیین میں ہے کہ یہ اشعار بکیر بن اخنس کے ہیں اور یہ اموی دور کے شاعر ہیں۔

اشعار کا پس ِ منظر:

    یہ شاعر قحط سالی کے زمانے میں مہلب بن ابی صغرۃ ظالم بن سراق ، امیر ِ عراق (متوفی 83ھ)کے پاس گئے اور انہوں نے ان کی خوب مہمان نوازی کی اور حسن ِ اخلاق سے پیش آئے توشاعر نے ان کی تعریف کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔

         نَزَلْتُ عَلٰی آلِ المُھَلَّبِ شَاتِیًا                  غَرِیْبًا عَنِ الْأَوْطانِ فِیْ زَمَنٍ مَحْلٖ
ترجمہ:

    میں سردیوں کے موسم میں وطن سے دور قحط سالی کے زمانے میں آل مہلب کامہمان بنا ۔

حل لغات:

     بیروت کے نسخوں میں ''شَاتِیًا''ہے، اسی کے مطابق شعر میں لکھا گیا ہے جبکہ ہمارے ہاں رائج نسخے میں'' شَاتِبًا''ہے اور یہ سہو ہے۔
2۔۔۔۔۔۔

        فما زالَ بِیْ اِکْرَامُھم وَاقْتِفاءُ ھم             وَاِلْطافُھم حَتّٰی حَسِبْتُھم اَھْلِیْ
ترجمہ:

    ہمیشہ مجھ پر ان کی کر م نوازیا ں اور خصوصی نوازشیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ میں نے انہیں اپنا خاندان سمجھ لیا۔
Flag Counter