1۔۔۔۔۔۔
اِنِّی حَمِدْتُّ بَنِی شَیْبانَ اِذْ خَمَدَتْ نِیْرَانُ قومی وَفِیْھم شُبَّتِ النار،
ترجمہ:
میں نے بنو شیبان کی تعریف کی جب میری قوم کی آگ بجھ گئی اور ان کی آگ روشن تھی۔
2۔۔۔۔۔۔
وَمِنْ تَکَرُّمِھم فِی المَحْلِ اَنَّھُمْ لایَعْلَمُ الْجارُ فیھم اَنَّہُ الجار،
ترجمہ:
او ران کی خوبیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قحط سالی میں ان کا پڑوسی خود کو پڑوسی نہیں سمجھتا۔
حل لغات:
اَلمَحْلُ:بارش کا ناپیداور زمین کا گھاس سے خشک ہوجانا۔ دوری ۔سختی۔ ج:مُحُولٌ واَمْحَالٌ۔شعر میں قحط مرادہے۔
3۔۔۔۔۔۔
حَتّٰی یَکُوْنَ عَزِیْزًا مِنْ نُّفُوْسِھم اَوْ اَنْ یَّبِیْنَ جَمِیْعًا وَھْوَ مُخْتار،
ترجمہ:
یہاں تک کہ وہ انہیں اپنی جانوں سے زیادہ پیارا ہوتاہے حتٰی کہ وہ سب سے اپنی مرضی سے جداہوجائے۔
4۔۔۔۔۔۔
کَاَنَّہ، صَدَعٌ فِیْ رَاْسِ شَاھِقَۃٍ مِنْ دُوْنِہٖ لِعِتاقِ الطَّیْرِ اَوْکَار،
ترجمہ:
گویا کہ وہ بلندپہاڑکی چوٹی پر بکراہے اس کے نیچے عمدہ پرندوں کے آشیانے ہیں۔