3۔۔۔۔۔۔
اَلااِنَّ خَیْرَ الْوُدِّ وُدٌّ تَطَوَّعَتْ لَہُ النَّفْسُ لا وُدٌّ اَتٰی وَھْوَ مُتْعِب،
ترجمہ:
سنو! بہترین دوستی تووہ ہے جس کے لئے دل آمادہ ہونہ وہ دوستی کہ تنگ دلی سے کی جائے۔
وقال أبوحَنْبَلٍ اَلطَّائِیُّ (البسیط)
شاعر کانام:
جاریۃ بن مر ّ ثعلی ہے اور یہ جاہلی شاعر ہے۔
1۔۔۔۔۔۔
لقد بَلانِیْ عَلٰی ماکانَ مِنْ حَدَث عِنْدَ اخْتِلافِ زِجَّاجِ القومِ سَیَّار،
ترجمہ:
حوادث زمانہ کے باوجودسیا ر نے مجھے قوم کی نیزہ زنی کے وقت آزمایا۔
حل لغات:
زِجَّاجٌ:مف:الزُّجُّ:نیزہ کے نچلے حصہ کا لوہا۔کہنی کا سرا۔
2۔۔۔۔۔۔
حَتّٰی وَفَیْتُ بِھا دُھْمًا مُعَلِّقَۃً کَالقارِ اَرْدَفَہ، مِنْ خَلْفِہٖ قار،
ترجمہ:
یہاں تک کہ ان کے بدلے میں نے ایسے بندھے ہوئے سیاہ اونٹ ادا کئے جیسے تہہ بتہہ تار کول۔
حل لغات:
دُھْمًا:مف:اَلاَدْھَمُ:سیاہ فام ،کالا۔گھر کے پرانے نشانات۔شعر میں سیاہ اونٹ مراد ہیں۔قَارٌ:ایک سیاہ رنگ