Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
238 - 324
حل لغات:

     اَلْملْحَاءُ:سفید وسیاہ رنگ والابڑا لشکر۔ج:مُلْحَاوَاتٌ۔
                            قال الْاَعْرَجُ الْمَعْنِیُّ (مشطور الرجز)
شاعر کاتعارف:

    شاعر کانام عدی بن عمروبن سویدہے۔اوریہ مخضرمی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

         اَنَا اَبُوْ بَرْزَۃَ اِذْ جَدَّ الْوَھَل                   خُلِقْتُ غَیْرَ زُمَّلٍ وَلَا وَکَلْ
ترجمہ:

    جب خوف بڑھ جائے تومیں ابو برزہ (مقابلے کے لیے پکارتا)ہوں اس حال میں پیداہواہوں کہ میں نہ بزدل ہوں اورنہ ہی دوسروں پر بھروسہ کرنے والا۔
                  دیکھ یہ حوصلہ میرا میرے بزدل دشمن

                  تجھ کو  لشکر  میں  پکارا  تن  ِ تنہا  جاکر
حل لغات:

    وَکَل:بزدل۔کند ذہن۔ایسا بے ہمت آدمی جو کسی کام کو خود نہ کرے بلکہ کسی اور کے ذمے لگادے۔
2۔۔۔۔۔۔

          ذَا قُوَّۃٍ وَذَا شَبَابٍ مُقْتَبَلْ                     لَاجَزَعَ الْیومَ عَلٰی قُرْبِ الْاَجَلْ
ترجمہ:

    طاقتو ر، چڑھتی ہوئی جوانی والا ہوں(اسی لئے)آ ج موت کے قریب ہونے پر بے صبری نہیں کرتا۔

حل لغات:

    ذَاقُوَّۃٍ:
فی القرآن المجید:
 ( اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیۡنُ  ) (51/58)
3۔۔۔۔۔۔

         اَلْمَوْتُ اَحْلٰی عِندَنا مِنَ العَسَلْ                   نَحْنُ بَنِیْ ضَبَّۃَ اَصْحا بُ الْجَمَلْ
ترجمہ:

    موت ہمارے نزدیک شہد سے زیادہ میٹھی ہے ہم بنو ضبہ جنگ جمل والے ہیں۔
Flag Counter