2۔۔۔۔۔۔
واَنَّا نِعْمَ اَحْلَاسُ الْقَوَافِیْ اِذَا اِسْتَعَرَّ اَلتَّنَافُرُ وَالنَّشِیْد،
ترجمہ:
اور یہ کہ ہم کتنے اچھے اشعار کہتے ہیں جب فخر اور اشعار کی آگ بھڑکے ۔
حل لغات:
اَحْلَاسٌ:مف:اَلْحِلْسُ:وہ ٹاٹ یا دری وغیرہ جو اونٹ کے کجاوے یا گھوڑے کی زین کے نیچے کمر سے لگاہوا ہو۔ٹاٹ یا دری یا بوریاوغیرہ جسے زمین پر بچھانے کے بعد اس پر عمدہ فر ش بچھایاجائے ۔یہ عمدہ و نفیس قالین وغیرہ کے نیچے بچھایا جاتاہے اور اسے ضروری سمجھاجاتاہے یعنی یہ لازم وملزوم اور ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔تو شعر میں اَحْلَاس کامعنی یہ ہے:کہ''شعرو شاعری ''ہماری فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔
اِسْتَعَرَّ:(استفعال)اِسْتَعَرَّتِ النَّارُ:
آگ جلنا۔ اَلحَرْبُ:مص۔ لڑائی کا بھڑکانا۔اَلتَّنَافُر:(تفاعل) تَنَافَرَ القومُ:باہم جھگڑنا،باہم فخر کرنا، ایک دوسرے پر بڑائی جتانا۔ اَلنَّشِیْد:آواز۔ترنم خیزبلند آواز۔
3۔۔۔۔۔۔
واَنَّا نَضْرِبُ الْمَلْحَاءَ حَتّٰی تَوَلّٰی وَالسُّیُوْ فُ لَنا شُھُوْد،
ترجمہ:
اور یہ کہ ہم بڑے لشکروں پر شمشیر زنی کرتے ہیں یہاں تک وہ پیٹھ پھیر کر بھاگجاتے ہیں او ر تلواریں ہماری گواہ ہیں۔