Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
237 - 324
وقال حَیَّانُ بْنُ رَبِیْعَۃَ الطَّائِیُّ (الوافر)
شاعر کا نا م:

     حیان بن ربیعہ طائی ہے اوریہ جاہلی شاعرہے۔
1۔۔۔۔۔۔

           لَقَدْ عَلِمَ الْقبَائِلُ اَنَّ قَوْمِی                        ذَوُوْ جِدٍّ اِذَا لُبِسَ الْحَدِیْدُ
ترجمہ:

    تحقیق تمام قبائل جانتے ہیں کہ جب اسلحہ پہن لیا جائے تو میری قوم جفاکش ہے ۔

حل لغات:

    جِدٌّ:روئے زمین ۔نہر کا کنارہ۔کسی شے کی کثر ت ومبالغہ کو بیان کرنے کے لئے جیسے فلانٌ مُحسِنٌ جِدًّا:وہ بہت زیادہ احسان کرنے والا۔
2۔۔۔۔۔۔

          واَنَّا نِعْمَ اَحْلَاسُ الْقَوَافِیْ                           اِذَا اِسْتَعَرَّ اَلتَّنَافُرُ وَالنَّشِیْد،
ترجمہ:

    اور یہ کہ ہم کتنے اچھے اشعار کہتے ہیں جب فخر اور اشعار کی آگ بھڑکے ۔

حل لغات:

    اَحْلَاسٌ:مف:اَلْحِلْسُ:وہ ٹاٹ یا دری وغیرہ جو اونٹ کے کجاوے یا گھوڑے کی زین کے نیچے کمر سے لگاہوا ہو۔ٹاٹ یا دری یا بوریاوغیرہ جسے زمین پر بچھانے کے بعد اس پر عمدہ فر ش بچھایاجائے ۔یہ عمدہ و نفیس قالین وغیرہ کے نیچے بچھایا جاتاہے اور اسے ضروری سمجھاجاتاہے یعنی یہ لازم وملزوم اور ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔تو شعر میں اَحْلَاس کامعنی یہ ہے:کہ''شعرو شاعری ''ہماری فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔
اِسْتَعَرَّ:(استفعال)اِسْتَعَرَّتِ النَّارُ:
آگ جلنا۔ اَلحَرْبُ:مص۔ لڑائی کا بھڑکانا۔اَلتَّنَافُر:(تفاعل) تَنَافَرَ القومُ:باہم جھگڑنا،باہم فخر کرنا، ایک دوسرے پر بڑائی جتانا۔ اَلنَّشِیْد:آواز۔ترنم خیزبلند آواز۔
3۔۔۔۔۔۔

          واَنَّا نَضْرِبُ الْمَلْحَاءَ حَتّٰی                   تَوَلّٰی وَالسُّیُوْ فُ لَنا شُھُوْد،
ترجمہ:

    اور یہ کہ ہم بڑے لشکروں پر شمشیر زنی کرتے ہیں یہاں تک وہ پیٹھ پھیر کر بھاگجاتے ہیں او ر تلواریں ہماری گواہ ہیں۔
Flag Counter