Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
233 - 324
5۔۔۔۔۔۔

         واِنَّ عِرَارًا اِنْ یَّکُنْ ذَا شَکِیْمَۃٍ                      تُقَاسِیْنَھَا مِنْہُ فَمَا اَمْلِکُ الشِّیَمْ
ترجمہ:

    بے شک اگرتُو عرارکی سخت مزاجی سے تکلیف برداشت کرتی ہے تو میں اخلاق کا مالک نہیں ۔

حل لغات:

    شَکِیْمَۃٌ:تکبر۔ظلم کی داد رسی۔عہد۔طبیعت۔مشابہت۔ذُو شَکِیْمَۃ:خود دار۔ غیرت مند ۔تابع نہ ہونے والا۔ ''تُقَاسِیْنَھَا'' ابو علی احمد مرزوقی کے نسخے میں''تلاقینھا''ہے۔ اَلشِّیَمُ:مف:الشِّیْمَۃُ:عادت،طبیعت۔
6۔۔۔۔۔۔

        واِنَّ عِرَارًا اِنْ یَّکُنْ غَیْرَ وَاضِحٍ                فَاِنِّیْ اُحِبُّ الْجَوْنَ ذَا الْمَنْکِبِ الْعَمَمْ
ترجمہ:

    اور بے شک اگر عرارکی رنگت سفیدنہیں تو بے شک میں پسند کرتاہوں ایسے کالے کو جو چوڑے کندھے والاہے۔ 

حل لغات:

    اَلْجَوْنُ:کالا۔سفید۔روشنی۔اندھیرا۔سرخی مائل سیاہی(یہ اضداد میں سے ہے)ج:جُوْنٌ۔ اَلْعَمَمُ:کثرت وہجوم۔ہرمکمل اور عام چیز۔جس کا فیض عام ہو۔
قال آخرُ وھو اسحاقُ بْنُ خَلَفٍ (البسیط)
شاعرکانام:

    اسحاق بن خلف ہے اوریہ ابن طبیب سے مشہور تھے (متوفی230ھ/ 845ء ) ۔
1۔۔۔۔۔۔

        لَوْلااُمَیْمَۃُ لَمْ اَجْزَعْ مِنَ الْعَدَمِ              وَلَمْ اُقَاسِ الدُّجٰی فِیْ حِنْدِسِ الظُّلَمٖ
ترجمہ:

    اگر امیمہ نہ ہوتی تو میں فقر(تنگ دستی)سے نہ ڈرتااور رات کی سخت تاریکیوں میں اندھیروں کی مشقت نہ جھیلتا۔ 

حل لغات:

    اَلْعَدَمُ:وجودکی ضد۔مفلسی۔العُدْمُ:فقر۔اَلدُّجٰی رات کی سیاہی او ر تاریکی (بطور صفت بھی مستعمل ہے)۔
''وَلَمْ اُقَاسِ الدُّجٰی''
بیروت کے نسخہ میں
''وَلَم اَجُبْ فی اللیالی''
ہے۔
Flag Counter