| دِيوانِ حماسه |
5۔۔۔۔۔۔
واِنَّ عِرَارًا اِنْ یَّکُنْ ذَا شَکِیْمَۃٍ تُقَاسِیْنَھَا مِنْہُ فَمَا اَمْلِکُ الشِّیَمْترجمہ:
بے شک اگرتُو عرارکی سخت مزاجی سے تکلیف برداشت کرتی ہے تو میں اخلاق کا مالک نہیں ۔
حل لغات:
شَکِیْمَۃٌ:تکبر۔ظلم کی داد رسی۔عہد۔طبیعت۔مشابہت۔ذُو شَکِیْمَۃ:خود دار۔ غیرت مند ۔تابع نہ ہونے والا۔ ''تُقَاسِیْنَھَا'' ابو علی احمد مرزوقی کے نسخے میں''تلاقینھا''ہے۔ اَلشِّیَمُ:مف:الشِّیْمَۃُ:عادت،طبیعت۔6۔۔۔۔۔۔
واِنَّ عِرَارًا اِنْ یَّکُنْ غَیْرَ وَاضِحٍ فَاِنِّیْ اُحِبُّ الْجَوْنَ ذَا الْمَنْکِبِ الْعَمَمْترجمہ:
اور بے شک اگر عرارکی رنگت سفیدنہیں تو بے شک میں پسند کرتاہوں ایسے کالے کو جو چوڑے کندھے والاہے۔
حل لغات:
اَلْجَوْنُ:کالا۔سفید۔روشنی۔اندھیرا۔سرخی مائل سیاہی(یہ اضداد میں سے ہے)ج:جُوْنٌ۔ اَلْعَمَمُ:کثرت وہجوم۔ہرمکمل اور عام چیز۔جس کا فیض عام ہو۔قال آخرُ وھو اسحاقُ بْنُ خَلَفٍ (البسیط)
شاعرکانام:
اسحاق بن خلف ہے اوریہ ابن طبیب سے مشہور تھے (متوفی230ھ/ 845ء ) ۔1۔۔۔۔۔۔
لَوْلااُمَیْمَۃُ لَمْ اَجْزَعْ مِنَ الْعَدَمِ وَلَمْ اُقَاسِ الدُّجٰی فِیْ حِنْدِسِ الظُّلَمٖترجمہ:
اگر امیمہ نہ ہوتی تو میں فقر(تنگ دستی)سے نہ ڈرتااور رات کی سخت تاریکیوں میں اندھیروں کی مشقت نہ جھیلتا۔
حل لغات:
اَلْعَدَمُ:وجودکی ضد۔مفلسی۔العُدْمُ:فقر۔اَلدُّجٰی رات کی سیاہی او ر تاریکی (بطور صفت بھی مستعمل ہے)۔''وَلَمْ اُقَاسِ الدُّجٰی''
بیروت کے نسخہ میں
''وَلَم اَجُبْ فی اللیالی''
ہے۔