| دِيوانِ حماسه |
صاف زندگی گزارنا۔ رُبَّتْ:رَبَّ ا لزِّقَّ(ن)رَبًّا:مشک پر کھجورکا شیرہ ملناتاکہ اس کی بو بہتر ہو جائے اوراس میں گھی وغیرہ رکھاجائے تو خراب نہ ہو۔اَلأَدَمُ:چمڑے کا اندرونی یا بیرونی حصہ ۔
3۔۔۔۔۔۔
واِنْ کُنْتِ تَھْوِیْنَ الْفِرَاقَ ظَعِیْنَتِیْ فَکُوْنِیْ لَہٗ کَالذِّئْبِ ضَاعَتْ لَہُ الْغَنَمْترجمہ:
اوراگرتُومیری جدائی چاہتی ہے تو اس کے لئے اس بھیڑیے کی طرح ہوجاجس سے بکری گم ہوگئی ہو۔
مطلب:
جب بھیڑیے سے بکر ی بھاگ جائے تو وہ انتہائی غضبناک ہوتاہے۔ اس شعر میں بھیڑیا مشبہ بہ اور شاعر کی بیوی مشبہ اور وجہ تشبیہ شدید غصہ ہے۔
حل لغات:
ظَعِیْنَۃٌ:ہودہ،پالکی ۔سواری کا اونٹ یا اونٹنی۔عورت یاپالکی میں بیٹھی ہوئی عورت، بیوی۔ ج:ظَعَائِنُ۔ اَلغَنَمُ:بھیڑ بکریاں(اس لفظ سے اس کا واحد نہیں ہے)ج:اَغْنَامٌ وغُنُومٌ۔فی القرآن المجید:
( وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیۡ ظُفُرٍ ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ) (6/146)
4۔۔۔۔۔۔
واِلَّا فَسِیْرِیْ مِثْلَ ماسَارَ رَاکِبٌ تَجَشّمَ خِمْسًا لَیْسَ فِیْ سَیْرِہٖ اَمَمْترجمہ:
ورنہ اس سوار کی چال چل جس نے اونٹ کو پانچویں دن پانی پلانے کی تکلیف اٹھائی ہو،اس کی چال میں میانہ روی نہیں۔
حل لغات:
تَجَشّمَ:(تفعّل)الامرَ:کسی کام کی ادائیگی میں تکلیف اٹھانا۔خِمْسًا:پانچواں حصہ۔فی القرآن المجید:
(وَاعْلَمُوْا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَیْءٍ فَأَنَّ لِلّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ)(8/41)
یمنی چادروں کی ایک قسم۔وہ جنگل جس میں پانی دورہواور دشواری کی بنا پر اونٹ پانی کے لئے پانچویں دن آتے ہوں۔پانی کی پانچویں دن کی باری(یعنی درمیان میں تین دن خالی ہوں)ج:اَخْمَاس۔ اَمَمٌ:مقابل۔قرب،نزدیکی۔معمولی چیز جو آسانی سے حاصل ہوجائے ۔واضح امر ۔ درمیانی ، معتدل۔