| دِيوانِ حماسه |
شاعرکاتعارف:
شاعر کانام عمروبن شاس اسدی ہے(متوفی 20ھ/640ء)اوریہ مخضرمی شاعرہیں،زمانۀ اسلام پایااور نعمتِ ایمان سے سرفراز ہوکرشرف ِ صحابیت حاصل کیااور جنگ قادسیہ میں شریک ہوکر فریضۀ جہاد بھی اداکیا۔
اشعار کا پس منظر:
ان کی ایک لونڈی تھی ا س سے ان کا ایک عرار نا می سیاہ فام بیٹاتھا ''عرار''بڑے فصیح وبلیغ تھے اس لئے ان کے والد ان سے محبت کرتے تھے لیکن شاعر کی بیوی ام حسان شاعرکو''عرار''سے عاردلاتی اور عرار کو اذیت پہنچاتی تھی ،شاعرنے اپنی بیوی کو تنبیہ اور اپنے بیٹے عرار کی تعریف کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔1۔۔۔۔۔۔
اَرَادَتْ عِرَارًا بِالْھَوَانِ وَمَنْ یُّرِدْ عِرَارًا لَعَمْرِیْ بِالْھَوَانِ فَقَدْ ظَلَمْترجمہ:
میری بیوی نے عرارکی توہین کا اردہ کیامیری زندگی کی قسم جو عرار کی توہین کا ارادہ کرے یقینا اس نے ظلم کیا۔
حل لغات:
اَلْھَوَانُ:مص۔ ھَانَ فلانٌ(ن)ھَوَانًا:ذلیل ورسوا ہونا۔2۔۔۔۔۔۔
فَاِنْ کُنْتِ مِنِّیْ اَوْتُرِیْدِیْنَ صُحْبَتِیْ فَکُوْنِیْ لَہٗ کَالسَّمَنِ رُبَّتْ لَہُ اَلأَدَمْترجمہ:
اگرتُو مجھ سے تعلق اور میرے ساتھ رہناچاہتی ہے تو اس کے لئے اس گھی کی طرح ہوجا جس کے لئے چمڑے کو شیرہ لگایا ہو۔
مطلب:
سابقہ زمانے میں گھی مشکیزے میں رکھاجاتاتھااگر مشکیزے کے چمڑے کو شیرہ لگاکرپھر گھی رکھاجاتاتو گھی خراب نہ ہوتا ورنہ خراب ہوجاتاتھا،شاعر کامقصد یہ ہے کہ اگر تو میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو پھرعرار سے حسن ِ سلوک سے پیش آ ورنہ میں تجھے چھوڑ دونگا۔حل لغات:
صُحْبَۃٌ:مص۔صَحِبَہ، (س)صُحْبَۃً:
ساتھی ہونا۔دوستی کرنا۔
فی القرآن المجید:
( لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ