| دِيوانِ حماسه |
شاعرکاتعارف:
شاعرکانام عبد العزیز بن زُرارۃکلا بی ہے(50ھ/670ء)اور یہ سیدنا امیر معایہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے کے بڑے بہادر اسلامی شاعرہیں اور جنگ ِقسطنطنیہ میں شریک ہوکر فریضۀ جہاد بھی اداکیا۔1۔۔۔۔۔۔
اِلَّا اَکُنْ مِمَّنْ عَلِمْتِ فَاِنَّنِیْ اِلٰی نَسَبٍ مِمَّنْ جَھِلْتِ کَرِیْمٖترجمہ:
اگرچہ میں ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں تو جانتی ہے(توکیا ہوا )بے شک میں ایسے معزز نسب کی طرف منسوب ہوں جس سے تُو بے خبر ہے۔
حل لغات:
''اِلَّا''ہر مقام پر حرفِ استثناء نہیں ہوتابلکہ کہیں''اِنْ،لَا''سے بھی مرکب ہوتاہے(جیسا کہ رمضان آفندی علیہ الرحمۃنے شرح عقائد کے حاشیہ میں اس کی صراحت کی ہے)ان اشعار میں بھی''اِنْ،لَا''سے مرکب ہے۔ ابوعلی احمدمرزوقی نے اس کا معنی ''اِنْ لَمْ''سے کیا ہے ۔(شرح دیوان الحماسۃ ج 1، ص202، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
2۔۔۔۔۔۔
وَاِلَّا اَکُنْ کُلَّ الْجَوَادِ فَاِنَّنِیْ عَلَی الزَّادِ فِی الظَّلْمَاءِ غَیْرُ شَتِیْمٖترجمہ:
اوراگرچہ میں کامل طورپر سخی نہیں (مگر اتنا ضرور ہے کہ )بے شک رات کی تاریکی میں مجھے توشہ(راشن)کی وجہ سے گالی نہیں دی جاتی۔
مطلب:
اگرچہ میں وقت کا حاتم طائی نہیں ہوں لیکن پھر بھی میرے ہاں جو مہمان اور دوست آتے ہیں وہ میری تعریف کرتے ہوئے ہی واپس جاتے ہیں؛کیونکہ میں مہمان نوازی اچھے طریقے سے کرتاہوں۔3۔۔۔۔۔۔
وَاِلَّا اَکُنْ کُلَّ الشُّجاعِ فَاِنَّنِیْ بِضَرْبِ الطُّلٰی وَالْھَامِ حَقُّ عَلِیْمٖترجمہ:
اوراگرچہ میں کامل طور پر بہادر نہیں(مگر اتنا ضرور ہے کہ )میں گردنوں اور کھوپڑیوں کو مارنے کا حق جانتا ہوں۔