ترجمہ:
تو ان کے منبر ہتھیلیوں کے اندرونی حصے ہوتے ہیں اور ان کے نیام بادشاہوں کے سر ہوتے ہیں۔
حل لغات:
مَنَابِرُ:مف:اَلْمِنْبَرُ:بلند جگہ جس پر خطیب خطبہ یا واعظ مسجد میں وعظ دے۔اَغْمَادٌ:وغُمُودٌ:مف:اَلغِمدُ:تلوارکی میان۔وقال آخر (البسیط)
شاعرکانام:
ابراہیم بن عباس الصُولیّ ہے۔1۔۔۔۔۔۔
لاَ یَمْنَعَنَّکَ خَفْضَ الْعَیْشِ فِیْ دَعَۃٍ نُزُوْعُ نَفْسٍ اِلٰی اَھْلٍ وَّاَوْطانٖترجمہ:
ہرگزتجھے گھروالوں اور وطن کی یاد عیش وراحت میں خوش گوار زندگی گزارنے سے نہ روکے ۔
حل لغات:
خَفْضٌ:آسودہ حالی،خوش حالی۔نشیبی زمین۔ج:خُفُوْضٌ۔نحویوں کے نزدیک''جر ّ''۔ دَعَۃٌ:سکون، راحت۔نُزُوْعٌ:وطن کامشتاق ہونا۔2۔۔۔۔۔۔
تَلْقٰی بِکُلِّ بِلادٍ اِنْ حَلَلْتَ بِھا اَہْلًا بِاَہْلٍ وَجِیْرَانًا بِجِیْرَانٖترجمہ:
جس شہر میں بھی تُو جائے گا تجھے وہاں گھر والوں کے بدلے گھر والے اور پڑوسیوں کے بدلے پڑوسی مل جائیں گے۔