| دِيوانِ حماسه |
شاعر کا تعارف:
شاعر کانام عبید بن حصین ہے(متوفی 90ھ/709ء)اوریہ اسلامی شاعر ہیں،انہیں راعی کا لقب اس لئے ملاکہ انہوں نے اونٹوں کے بارے میں کثرت سے اشعار کہے ہیں۔1۔۔۔۔۔۔
وقد قادَنِی الْجِیْرَانُ حِیْنًا وقُدْتُّہم وفارَقْتُ حَتّٰی ما تَحِنُّ جِمالِیَاترجمہ:
تحقیق ایک وقت تک پڑوسیوں نے مجھے کھینچا اورمیں نے بھی انہیں کھینچا اور میں ایساجدا ہواکہ میرے اونٹوں کو ملاقات کا شوق نہیں رہا۔
حل لغات:
تَحِنُّ:حَنَّ(ض)حَنِیْنًا:آواز نکالنا۔حَنّتِ النَّاقَۃُ:اونٹنی کا اپنے بچے کے اشتیاق میں آواز نکالنا۔2۔۔۔۔۔۔
رَجَاؤُ کَ اَنْسانِیْ تَذَکُّرَ اِخْوَتِیْ ومالُکَ اَنسانی بِوَھْبِیْنَ مالِیَاترجمہ:
تجھ سے وابستہ امیدوں نے مجھے میرے بھائیوں کا تذکرہ بھلادیا اور تیرے مال نے مجھے مقام وہبین میں پڑا ہوا میرا مال بھلادیا۔
حل لغات:
رَجَاؤٌ:مص۔رَجَاہُ(ن)رَجَاءً:امیدکرنا،امید رکھنا،توقع رکھنا، درخواست کرنا۔ وَھْبِیْنَ:ایک مقام کا نام ہے۔قال آخر (المتقارب)
1۔۔۔۔۔۔
واِنَّا لَتُصْبِحُ اَسْیافُنا اِذا مَا اصْطَبَحْنَ بِیَوْمٍ سَفُوْکترجمہ: بے شک خون بہانے کے دن جب ہماری تلواریں شراب صبح پی لیتی ہیں۔