| دِيوانِ حماسه |
شاعر کا تعارف :
شاعر کا نام طفیل بن عوف یا طفیل بن کعب غنوی ہے(13ھ/610ء)یہ جاہلی شاعر ہے۔1۔۔۔۔۔۔
وما اَنَا بِالْمُسْتَنْکِرِ الْبَیْنَ اِنَّنِیْ بِذِی لَطَفِ الجیرانِ قِدَمًا مُفَجَّع،ترجمہ:
میں جدائی سے ناواقف نہیں ؛کیونکہ میں تو عرصۀ دراز سے مہربان پڑوسیوں کی وجہ سے درد پہنچایا جارہاہوں۔
حل لغات:
المستنکر:فا(استفعال)اِسْتَنْکَرَ الامْر:ناپسند کرنا،مذمت کرنا ، اظہار نفرت کرنا، براسمجھنا۔2۔۔۔۔۔۔
جَدِیْرٌ بِہٖ مِنْ کُلِّ حَیٍّ صَحِبْتُھم اذا اَنَسٌ عَزُّوْا عَلَیَّ تَصَدَّعُوْاترجمہ:
میں ہراس قبیلے سے جدائی کے لائق ہوں جس کے ساتھ میں رہاہوں؛ کیونکہ جب وہ مانوس ہوکر مجھے پیارے ہوجاتے ہیں تو جداہوجاتے ہیں۔ نہ جانے کونسا آسیب دل میں بستا ہے
کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑگیا3۔۔۔۔۔۔
واَنِّیْ بِالْمَوْلَی الَّذِیْ لیسَ نافِعِیْ ولاضَائِرِیْ فُقْدَانُہ، لَمُمَتَّع،ترجمہ:
اور اب مجھے چچاکے اس بیٹے سے نفع پہنچایا جارہاہے جس کا وجود میرے لئے نافع ہے نہ ہی اس کا گم ہونانقصان دہ ہے ۔
حل لغات:ضَائِرٌ:فا۔ ضَارَہُ کذا(ض)ضَیْرًا:
نقصان پہنچانا ۔
فی القرآن المجید:
( قَالُوۡا لَا ضَیۡرَ ۫ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ) (26/50)