| دِيوانِ حماسه |
ترجمہ:
تحقیق میری جان جدائی کی عادی ہوچکی ہے اور میری آنکھ محبوب کی عدم موجودگی کے باوجود سوجاتی ہے۔
حل لغات:
تَنْطَوِی:(انفعال)اِنْطَوٰی:لپٹنا،طے ہونا۔علی کذا۔ مشتمل ہونا ، ایک شے کو اپنے اند رلئے ہوئے ہونا۔ الحَبِیْب:محبوب،دوست،عاشق۔ج:اَحِبّاءُ واَحِبَّۃٌ۔''فَقْدِ الْحَبِیْبِ''شرح مرزوقی میں ''فَقْدِ الصدیق'' ہے۔وقال آخر (البسیط)
1۔۔۔۔۔۔
رُوِّعْتُ بالبَیْنِ حتّیٰ ما اُراعُ لَہٗ وبِالمَصائِبِ فِیْ اَھْلِیْ وجِیرَانِیْترجمہ:
میں جدائی اور اپنے گھروالوں اور پڑوسیوں پرمصیبت سے ڈرایاگیا یہاں تک کہ میں نے ڈرنا چھوڑ دیا۔
مطلب:
اب میں مصائب کا خوگر ہوچکاہوں لہذا اب مجھے کوئی اندیشہ نہیں۔
حل لغات:
رَوَّعہ،:(تفعیل)ڈرانا،گھبرادینا۔''رُوِّعْتُ''بیروت کے نسخہ میں''فُزِّعْتُ''ہے۔2۔۔۔۔۔۔
لم یَتْرُکِ الدَّھْرُ لی عِلْقًا اَضَنُّ بہ الِاَّ اِصْطَفاہُ بِنَاْیٍ او بِھِجْرانٖترجمہ:
زمانے نے کوئی بھی ایسی نفیس چیز نہیں چھوڑی جس میں کنجوسی کروں مگر اسے دوری اور جدائی کے لئے منتخب کرلیا۔
حل لغات:
عِلْقًا:ہرعمدہ چیزجودل کو لگے۔اَضَنُّ:ضَنَّ بہٖ وعلیہِ(س)ضَنًّا:
انتہائی کنجوس اور بخیل ہونا۔اِصْطَفَاہُ:(افتعال)برتری وبرگزیدگی عطاکرنا۔اپنے لئے خاص کرنا ، منتخب کرنا۔
فی القرآن المجید:
(إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاھِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْن)(3/33)
ھِجْرانُ:مص۔ ھَجَرَ الشیء َ(ن)ھِجْرانٌ:
چھوڑنا ، اعراض کرنا۔
( وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیۡلًا )(73/10)