Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
226 - 324
ترجمہ:

    تحقیق میری جان جدائی کی عادی ہوچکی ہے اور میری آنکھ محبوب کی عدم موجودگی کے باوجود سوجاتی ہے۔

حل لغات:

    تَنْطَوِی:(انفعال)اِنْطَوٰی:لپٹنا،طے ہونا۔علی کذا۔ مشتمل ہونا ، ایک شے کو اپنے اند رلئے ہوئے ہونا۔ الحَبِیْب:محبوب،دوست،عاشق۔ج:اَحِبّاءُ واَحِبَّۃٌ۔''فَقْدِ الْحَبِیْبِ''شرح مرزوقی میں ''فَقْدِ الصدیق'' ہے۔
وقال آخر (البسیط)
1۔۔۔۔۔۔

        رُوِّعْتُ بالبَیْنِ حتّیٰ ما اُراعُ لَہٗ                وبِالمَصائِبِ فِیْ اَھْلِیْ وجِیرَانِیْ
ترجمہ:

    میں جدائی اور اپنے گھروالوں اور پڑوسیوں پرمصیبت سے ڈرایاگیا یہاں تک کہ میں نے ڈرنا چھوڑ دیا۔ 

مطلب:

    اب میں مصائب کا خوگر ہوچکاہوں لہذا اب مجھے کوئی اندیشہ نہیں۔

حل لغات:

    رَوَّعہ،:(تفعیل)ڈرانا،گھبرادینا۔''رُوِّعْتُ''بیروت کے نسخہ میں''فُزِّعْتُ''ہے۔
2۔۔۔۔۔۔

          لم یَتْرُکِ الدَّھْرُ لی عِلْقًا اَضَنُّ بہ              الِاَّ اِصْطَفاہُ بِنَاْیٍ او بِھِجْرانٖ
ترجمہ:

    زمانے نے کوئی بھی ایسی نفیس چیز نہیں چھوڑی جس میں کنجوسی کروں مگر اسے دوری اور جدائی کے لئے منتخب کرلیا۔

حل لغات:

    عِلْقًا:ہرعمدہ چیزجودل کو لگے۔
اَضَنُّ:ضَنَّ بہٖ وعلیہِ(س)ضَنًّا:
انتہائی کنجوس اور بخیل ہونا۔اِصْطَفَاہُ:(افتعال)برتری وبرگزیدگی عطاکرنا۔اپنے لئے خاص کرنا ، منتخب کرنا۔
فی القرآن المجید:
 (إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاھِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْن)(3/33)
ھِجْرانُ:مص۔ ھَجَرَ الشیء َ(ن)ھِجْرانٌ:
چھوڑنا ، اعراض کرنا۔
 ( وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیۡلًا )(73/10)
Flag Counter