Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
225 - 324
حل لغات:

    عذب:میٹھا،شیریں،خوش گوار(کھانا ہو یاپانی)
3۔۔۔۔۔۔

       لَنَاجانِبٌ مِّنْہُ دَمِیْثٌ وَجانِبٌ                      اِذا رَامَہُ الْاَعْدَاءُ مُمْتَنِعٌ صَعْب،
ترجمہ:

    ہمارے لئے اس کا ایک نرم پہلوہے اور دوسری روکنے والی سخت جانب ہے جب دشمن اس کا اردہ کرے۔

حل لغات:

     دَمِیْث:صفت۔نرم مزاج ،خوش اخلاق۔ج:دِمَاثٌ۔''مُمْتَنِعٌ''بیروت کے نسخے میں ''مَرْکَبُہ،''ہے۔
4۔۔۔۔۔۔

         وَتَأخُذُہ، عِنْدَ الْمَکارِمِ ھِزَّۃٌ               کَمَا اھْتَزَّ تَحْتَ الْبارِحِ الْغُصْنُ الرَّطْب،
ترجمہ:

    اور اچھے کارناموں کے وقت خوشی وشادمانی اسے اس طرح آلیتی ہے جس طرح ترٹہنی گرم ہوا میں ہلتی ہے۔

حل لغات: 

    بیروت کے نسخے میں لفظِ ''تَحْتَ''نہیں ہے اور یہ سہو ہے۔ اَلبارح:موسم گرما کی گرم ہوا۔گزرا ہوا وقت۔ اَلبَارِحَۃُ:گزشتہ رات۔ اَلْغُصْنُ:ٹہنی،شاخ(پتلی ہویا باریک )ج:
غُصُونٌ واَغْصَانٌ۔ اَلرَّطْبُ:
نرم ونازک ، تر و تازہ ، تر،ج:
رُطُبٌ ورُطْبٌ۔ اَلرُّطْبُ:
ترو تازہ گھاس یا سبزی یا پودے وغیرہ۔الرُّطَبُ:پکی ہوئی تازہ کھجور۔
وقال آخَرُ (الطویل)
شاعر کانام:

    عبد الصمدبن معذل یاحسین بن مطیرہے۔
1۔۔۔۔۔۔

         وفَارَقْتُ حَتّٰی مَا اُبالِیْ مِنَ النَّوٰی                   وَاِنْ بانَ جِیْرَانٌ عَلَیَّ کِرَام،
ترجمہ:

    میں جداہوا یہاں تک کہ اب میں جدائی کی پرواہ نہیں کرتااگر چہ مجھ پر سخاوت کرنے والے پڑوسی جدا ہوجائیں۔
2۔۔۔۔۔۔

           فقد جَعَلَتْ نَفْسِیْ عَلَی النَّأیِ تَنْطَوِیْ           وعَیْنِیْ علی فَقْدِ الْحَبِیْبِ تنام،
Flag Counter