3۔۔۔۔۔۔
فَجَاءَ تْ بِہٖ سَبْطَ الْبَنانِ کَأَنَّمَا عِمَامَتُہ، بَیْنَ الرِّجالِ لِوَاء،
ترجمہ:
تواس کی ماں نے اسے طویل القامت جنا گویا کہ اس کا عمامہ لوگوں کے درمیان جھنڈا ہے۔
حل لغات:
سَبْطٌ:لمبا آدمی۔سیدھے بال ۔مسلسل بارش۔سَبْطُ الاَصَابِع:لمبی انگلیوں والا۔ج:سِبَاطٌ۔ لِوَاءً:جھنڈا، پرچم۔ج:اَلْوِیَۃٌ واَلْوِیَاۃٌ۔
1۔۔۔۔۔۔
رَأیْتُ رِباطًا حِیْنَ تَمَّ شَبابُہ، وَوَلّٰی شَبَابِیْ لَیْسَ فِیْ بِرِّہٖ عَتْب،
ترجمہ:
میں نے رباط کو دیکھاجب اس کی جوانی مکمل ہوئی اور میری جوانی نے پیٹھ پھیرلی کہ اس کی فرمانبرداری میں کوئی کمی نہیں۔
حل لغات:
رباط:شاعر کے بیٹے کا نا م ہے۔بِرٌّ:عطیہ،طاعت ،صلاحیت،سچائی۔ عَتَبٌ:سختی، تکلیف دہ بات۔
2۔۔۔۔۔۔
اِذَاکانَ اَوْلَادُ الرِّجالِ حَزَازَۃً فَاَنْتَ الْحَلالُ الْحُلْوُ وَالْبارِدُ الْعَذْب،
ترجمہ:
جب لوگوں کی اولاد دردِدل کا باعث ہوتی ہے تو تُو ٹھنڈا میٹھاشیریں اچھے اخلاق والاہوتاہے۔
علامہ مرزوقی نے دوسرے مصرعے کا ترجمہ یوں کیا ہے:تو تُو میٹھے پانی میں ملائے ہوئے شہد کی طرح ہوتا ہے۔