(قَدْ یَعْلَمُ اللَّہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُونَ مِنکُمْ لِوَاذاً فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْم) (24/63)
بِفلانٍ:کسی کی حفاظت میں ہونا،کسی سے وابستہ ہونا۔ اَلاَشْعاف:مف:الشَّعَفَۃُ:بلند حصہ ،چوٹی۔سر کے بالوں کی زلف۔بے انتہاء محبت۔
وقال آخرُ فِی ابْنٍ لَّہ، (الطویل)
اشعار کا پس منظر:
شاعرکابیٹا''حُنْدُجْ''شاعرکی لونڈی سے تھااور اس کی بیوی اسے اذیت دیتی تھی تو اسے خطاب کرتے ہوئے حُنْدُج کی تعریف میں یہ اشعار کہتاہے۔
1۔۔۔۔۔۔
لَا تَعْذُلِیْ فِیْ حُنْدُجٍ اِنَّ حُنْدُجًا وَلَیْثُ عِفِرِّیْنٍ لَدَیَّ سَوَاء،
ترجمہ:
اے بیوی ! حندج کے بارے میں مجھے ملامت نہ کر بے شک حندج اور عفرین کے شیر میرے نزدیک برابرہیں۔
حل لغات:
تَعْذَلِی:عَذَلَہٗ (ن،ض)عَذْلًا:ملامت کرنا۔
2۔۔۔۔۔۔
حَمَیْتُ عَلَی الْعُھَّارِ اَطْھارَ اُمِّہٖ وبعضُ الرِّجالِ الْمُدَّعِیْنَ غُثاء،
ترجمہ:
میں نے اس کی ماں کے طہروں کی زانیوں سے حفاظت کی اور بعض لوگ جو دعوی کرتے ہیں بے کار ہے۔
مطلب:
اس کی ماں اگرچہ لونڈی ہے لیکن اس کے باوجود پاک دامن ہے لہذا بعض لوگ جو دعوی کرتے ہیں کہ حندج کسی اور کی اولادہے یہ غلط ہے۔