3۔۔۔۔۔۔
لَمَّا رَأَوْھا مِنَ الْاَجْزَاعِ طالِعَۃً شُعْثًا فَوَارِسُھا شُعْثًا نَوَاصِیْھا
ترجمہ:
جب انہوں(بنوسنبس) نے گھوڑوں کو وادیوں کے موڑوں سے ظاہر ہوتے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ ان کے شہسواروں کے بال بکھرے ہوئے اور پیشانیاں پر اگندہ ہیں۔
حل لغات:
اَلاجزَاعُ:مف:الْجَزْعُ:سنگ سلیمانی ،ماربل ،عقیق۔ایک قیمتی پتھر جو سرخ رنگ کا ہوتاہے اور جس پر مختلف رنگوں کی دھاریاں ہوتی ہیں۔وادی کا موڑ،وادی کا بیچ۔
شُعْثًا:مف:اَشْعَثُ:شَعِثَ الشَّعْرُ(س)شَعَثًا:
بالوں کا بکھرا ہوااور غبار آلود ہونا۔
4۔۔۔۔۔۔
لَاذَتْ ھُنالِکَ بِالْاَشْعَافِ عالِمَۃً اَنْ قد اَطاعَتْ بِلَیْلٍ اَمْرَغاوِیْھا
ترجمہ:
تو انہوں نے اسی وقت پہاڑی چوٹیوں میں پناہ لی یہ جانتے ہوئے کہ انہوں نے گمراہ سردار کی اطاعت کی ہے ۔
فائدہ:
اطاع الامر باللیل:''غلط فیصلہ کرنے ''سے کنایہ ہے ؛کیونکہ عرب کا خیال تھا کہ جس معاملہ کی منصوبہ بندی رات کو کی جائے اس کا انجام اچھانہیں ہوتا۔
حل لغات:
ترجمہ:
تو انہوں نے اسی وقت پہاڑی چوٹیوں میں پناہ لی یہ جانتے ہوئے کہ انہوں نے گمراہ سردار کی اطاعت کی ہے ۔
فائدہ:
اطاع الامر باللیل:''غلط فیصلہ کرنے ''سے کنایہ ہے ؛کیونکہ عرب کا خیال تھا کہ جس معاملہ کی منصوبہ بندی