ترجمہ:
اے چچا!نرمی کیجئے اورآنے والی مصیبت کے لئے مجھے تیارکیجئے بے شک زمانے کے حوادث کثیر ہیں۔
نوٹ:
''تَنُوْبُ''شرح مرزوقی میں ہے''تُلِمُّ''اور''عَجَائِبُہ،''کی جگہ''نوائبُہ،"ہے۔
(شر ح مرزوقی،ج1،ص193، بیروت)
حل لغات:
جَمٌّ:ہرچیز کی زیادتی ۔
(وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ) (89/20)
4۔۔۔۔۔۔
اَنَا السَّیْفُ اِلَّا اَنَّ لِلسَّیْفِ نَبْوَۃً وَمِثْلِیْ لا تَنْبُوْعلیکَ مَضَارِبُہ،
ترجمہ:
میں تلوار ہوں مگر تلوار خطاکرتی ہے لیکن مجھ جیسی تلوار کی ضربیں تجھ سے خیانت نہیں کریں گی۔
حل لغات:
نَبْوَۃً:نَبا الشیءُ(ن)نَبْوَۃً:
کسی چیز کا اپنی جگہ فٹ نہ ہونا،موزوں نہ ہونا ،نہ ٹہرنا۔ السَّیفُ:تلوار کانشانے پر نہ لگنا۔''لِکُلِّ سیفٍ نَبْوَۃٌ'':ہر تلوار کبھی نہ کبھی نشانہ خطا کرجاتی ہے
وقال بعضُ بَنِیْ عبدِ شَمْسٍ مِنْ فَقْعَسٍ (البسیط)
1۔۔۔۔۔۔
یَااَیُّھَا الرَّاکِبَانِ السَّائِرَانِ مَعًا قُوْلَا لِسِنْبِسَ فَلْتَقْطِفْ قَوَافِیْھا
ترجمہ:
اے ایک ساتھ چلنے والے دوسوارو!بنو سنبس سے کہدو کہ:اپنے اشعارروک لو۔