Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
221 - 324
حل لغات:
    شِبْعٌ:اَلشِّبْعُ منَ الطَّعَامِ وغَیرِہٖ:
شکم یا طبعیت سیر کردینے والی چیز، آسودگی۔
3۔۔۔۔۔۔

         فَیَا عَمِّ مَھْلًا وَا تَّخِذْنِیْ لِنَوْبَۃٍ               تَنُوْبُ فَاِنَّ الدَّھْرَ جَمٌّ عَجَائِبُہ،
ترجمہ:

    اے چچا!نرمی کیجئے اورآنے والی مصیبت کے لئے مجھے تیارکیجئے بے شک زمانے کے حوادث کثیر ہیں۔

نوٹ:

    ''تَنُوْبُ''شرح مرزوقی میں ہے''تُلِمُّ''اور''عَجَائِبُہ،''کی جگہ''نوائبُہ،"ہے۔
 (شر ح مرزوقی،ج1،ص193، بیروت)
حل لغات:

    جَمٌّ:ہرچیز کی زیادتی ۔
فی القرآن ا لمجید:
 (وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ) (89/20)
ج:جِمَامٌ وجُمُومٌ۔
4۔۔۔۔۔۔

         اَنَا السَّیْفُ اِلَّا اَنَّ لِلسَّیْفِ نَبْوَۃً                   وَمِثْلِیْ لا تَنْبُوْعلیکَ مَضَارِبُہ،
ترجمہ:

    میں تلوار ہوں مگر تلوار خطاکرتی ہے لیکن مجھ جیسی تلوار کی ضربیں تجھ سے خیانت نہیں کریں گی۔

حل لغات:
    نَبْوَۃً:نَبا الشیءُ(ن)نَبْوَۃً:
کسی چیز کا اپنی جگہ فٹ نہ ہونا،موزوں نہ ہونا ،نہ ٹہرنا۔ السَّیفُ:تلوار کانشانے پر نہ لگنا۔''لِکُلِّ سیفٍ نَبْوَۃٌ'':ہر تلوار کبھی نہ کبھی نشانہ خطا کرجاتی ہے
وقال بعضُ بَنِیْ عبدِ شَمْسٍ مِنْ فَقْعَسٍ (البسیط)
1۔۔۔۔۔۔

          یَااَیُّھَا الرَّاکِبَانِ السَّائِرَانِ مَعًا           قُوْلَا لِسِنْبِسَ فَلْتَقْطِفْ قَوَافِیْھا
ترجمہ:

    اے ایک ساتھ چلنے والے دوسوارو!بنو سنبس سے کہدو کہ:اپنے اشعارروک لو۔
Flag Counter