Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
220 - 324
کادرست ہونا،صاحب الرائے ہونا،درست کارہونا۔الرفد:اَلرِّفْدُ:عطیہ، بخشش،انعام۔
فی القرآن المجید :
 (وَأُتْبِعُواْ فِیْ ھَـذِہِ لَعْنَۃً وَّیَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُود)(11/99)
امداد۔ج:اَرْفَادٌ ورُفُوْدٌ۔
8۔۔۔۔۔۔

       اَمْ مَنْ یُّھِیْنُ لَنَا کَرَائِمَ مالِہٖ                         ولَنا اِذا عُدْنَا اِلَیْہِ مَعَاد،
ترجمہ:

    اور کون ہے جو ہمارے لئے اپنا عمدہ مال خرچ کرے اور کون ہے کہ جب ہم اس کے پاس جائیں تو ہمیں نفع دے ۔
وقال بِشْرُ بْنُ المُغِیْرَۃِ (الطویل)
شاعر کاتعارف:

    شاعر کانام بشربن مغیرہ بن مہلب بن ابی صفرہ ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔

اشعار کا پس ِ منظر:

    شاعر کاچچا مہلب خراسان اورسجستان کاا میر تھااورشاعرکا باپ مغیرہ اور اس کا چچازاد بھائی یزید بن مہلب کلیدی عہدوں پر فائزتھے شاعرنے ا ن سے اپنے لئے منصب طلب کیا لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی تو اس موقع پرشاعر نے شکو ہ کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔

        جَفانِی الْاَمِیْرُ وَالْمُغِیْرَۃُ قد جَفا                   وَاَمْسٰی یَزِیْدُ لِیْ قَدِ ازْوَرَّ جَانِبُہ،
ترجمہ:

    امیر نے مجھ پر ظلم کیااور مغیرہ نے بھی ظلم کیااور یزید نے بھی مجھ سے پہلوتہی کی۔

حل لغات:

    جَفَا:جَفَا فلانًا وعلیہِ:(ن)جَفَاءً:منہ پھیرنا۔بے تعلق ہونا۔
فی القرآن المجید:
 (فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَاء)(13/17)
اِزْوَرَّ،عنہُ:ہٹنا،منحرف ہونا ، کنارہ کش ہونا۔
2۔۔۔۔۔۔

        وکُلُّھُمْ قد نالَ شِبْعًا لِبَطْنِہٖ                    وَشِبْعُ الْفَتٰی لُؤْمٌ اِذا جاعَ صاحِبُہ،
ترجمہ:

    ان سب نے شکم سیری کرلی اور نوجوان کاسیر ہوناملامت ہے جبکہ اس کا ساتھی بھوکا ہو۔
Flag Counter