8۔۔۔۔۔۔
اَمْ مَنْ یُّھِیْنُ لَنَا کَرَائِمَ مالِہٖ ولَنا اِذا عُدْنَا اِلَیْہِ مَعَاد،
ترجمہ:
اور کون ہے جو ہمارے لئے اپنا عمدہ مال خرچ کرے اور کون ہے کہ جب ہم اس کے پاس جائیں تو ہمیں نفع دے ۔
وقال بِشْرُ بْنُ المُغِیْرَۃِ (الطویل)
شاعر کاتعارف:
شاعر کانام بشربن مغیرہ بن مہلب بن ابی صفرہ ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔
اشعار کا پس ِ منظر:
شاعر کاچچا مہلب خراسان اورسجستان کاا میر تھااورشاعرکا باپ مغیرہ اور اس کا چچازاد بھائی یزید بن مہلب کلیدی عہدوں پر فائزتھے شاعرنے ا ن سے اپنے لئے منصب طلب کیا لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی تو اس موقع پرشاعر نے شکو ہ کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔
جَفانِی الْاَمِیْرُ وَالْمُغِیْرَۃُ قد جَفا وَاَمْسٰی یَزِیْدُ لِیْ قَدِ ازْوَرَّ جَانِبُہ،
ترجمہ:
امیر نے مجھ پر ظلم کیااور مغیرہ نے بھی ظلم کیااور یزید نے بھی مجھ سے پہلوتہی کی۔
حل لغات:
جَفَا:جَفَا فلانًا وعلیہِ:(ن)جَفَاءً:منہ پھیرنا۔بے تعلق ہونا۔
(فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَاء)(13/17)
اِزْوَرَّ،عنہُ:ہٹنا،منحرف ہونا ، کنارہ کش ہونا۔
2۔۔۔۔۔۔
وکُلُّھُمْ قد نالَ شِبْعًا لِبَطْنِہٖ وَشِبْعُ الْفَتٰی لُؤْمٌ اِذا جاعَ صاحِبُہ،
ترجمہ:
ان سب نے شکم سیری کرلی اور نوجوان کاسیر ہوناملامت ہے جبکہ اس کا ساتھی بھوکا ہو۔