| دِيوانِ حماسه |
شاعر کا نام:
عویف بن معاویہ بن عقبہ ہے(متوفی100ھ/718ء)،یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔
اشعار کا پس منظر:
ان کی ہمشیرہ ، عیینہ بن اسماء بن خارجہ کی بیوی تھی ،جب عیینہ نے اسے طلاق دی تو عویف قوافی اس پرناراض ہوئے پھر کسی وجہ سے حجاج نے عیینہ کو گرفتار کروالیا، جب عویف قوافی کو گرفتاری کاعلم ہوا تو اس نے حسر ت وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔1۔۔۔۔۔۔
ذَھَبَ الرُّقادُ فما یُحَسُّ رُقاد، مِمَّا شَجاکَ وَنامَتِ الْعُوَّاد،ترجمہ:
میری رات کی نیند اڑگئی اور نیندکا احساس تک نہ رہااس خبر کی وجہ سے جس نے تجھے غمگین کردیااور عیادت کرنے والے سوگئے۔
حل لغات:
الرقادُ:رات کی نیند۔ آرام۔موت۔سکون۔ منداپن۔شجاک:شَجَاہُ الامر ُ(ن)شَجْوًا:
غمگین کرنا۔ اَلعُوَّادٌ:فا۔ مف:عَائِدٌ:عیادت کرنے والے۔
2۔۔۔۔۔۔
خَبَرٌ أَتانِیْ مِنْ عُیَیْنَۃَ مُوْجِعٌ کادَتْ عَلَیْہِ تَصَدَّعُ الْاَکْباد،ترجمہ:
عیینہ کے بارے میں مجھے ایسی درد ناک خبر معلوم ہوئی قریب تھا کہ اس سے جگر پارہ پارہ ہوجائیں ۔
حل لغات:
تَصَدَّعَ:پھٹنا(لیکن الگ نہ ہونا)جگہ جگہ سے پھٹنا،شگاف پڑنا،دراڑ پڑنا۔فی القرآن المجید:
لَوْ اَنۡزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ )(59/21)
3۔۔۔۔۔۔
بَلَغَ النُّفُوْسَ بَلاءُ ہ، فَکَأَنَّنَا مَوْتٰی وَفِیْنَا الرُّوْحُ وَالْاَجْسَاد،