(ہَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ إِبْرَاہِیْمَ الْمُکْرَمِیْن) (51/24)
''اِذاضَافَکَ مَکْرُوْہٌ فَاقْرِہٖ صَبْرًا'':
جب مصیبت مہمان ہوتو صبر سے اس کی ضیافت کر۔
وَقَالَ اِبرَاھِیْمُ بْنُ کُنَیْفِ النَّبْھَانِیُّ (الطویل)
شاعر کا نام:
ابراہیم بن کنیف نبہانی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔
تَعَزَّ فَاِنَّ الصَّبْرَ بِالْحُرِّ اَجْمَل، وَلَیْسَ عَلٰی رَیْبِ الزَّمَانِ مُعَوَّل،
ترجمہ:
اے نفس!تو صبر کر بے شک صبرمعزز انسان کیلئے زیادہ مناسب ہے اور حوادث زمانہ پر کوئی اعتماد نہیں ہوتا۔
حل لغات:
مُعَوَّل،:مفع۔(تفعیل)
بھروسہ کرنا،اعتماد کرنا۔کسی سے مدد چاہنا ۔
2۔۔۔۔۔۔
فَلَوْکانَ یُغْنِیْ اَنْ یُّرَی الْمَرْءُ جازِعًا لِحادِثَۃٍ اَوْکانَ یُغْنِی التَّذَلُّل،
ترجمہ:
اگر انسان کو مصیبت کے وقت بے صبری کرتے ہوئے دیکھا جانا یا ذلیل ہونا نفع دیتا۔
حل لغات:
جَازِعًا:فا۔ جَزِعَ(س)جَزَعًا:گھبرا جانا،کسی آفت وتکلیف سے گھبرانا ، بے برداشت ہونا ، مایوس ہونا،پریشان ہونا،بے تاب ہونا،ڈرنا۔
3۔۔۔۔۔۔
لَکانَ التَّعَزِّیْ عندَ کُلِّ مُلِمَّۃٍ وَنائِبَۃٍ بِالْحُرِّ اَوْلٰی واَجْمَل،
ترجمہ:
تب بھی ہر مصیبت اور مشکل کے وقت صبرکرنا معززانسان کیلئے زیادہ مناسب اور اچھا ہوتا۔