Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
215 - 324
حل لغات:
    اُضِیْفَ:اَضَافَ الیہِ:
مائل ہونا۔کسی کا سہار الینا۔الشیءَ الیہِ:ملانا، شامل کرنا، اضافہ کرنا، بڑھانا،منسوب کرنا،حوالہ دینا۔فُلانًا:مدد کرنا،پناہ دینا ۔ مہمان بنانا، ضیافت کرنا ۔
فی القرآن المجید:
 (ہَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ إِبْرَاہِیْمَ الْمُکْرَمِیْن) (51/24)
عربی مقولہ ہے:
''اِذاضَافَکَ مَکْرُوْہٌ فَاقْرِہٖ صَبْرًا'':
جب مصیبت مہمان ہوتو صبر سے اس کی ضیافت کر۔
وَقَالَ اِبرَاھِیْمُ بْنُ کُنَیْفِ النَّبْھَانِیُّ (الطویل)
شاعر کا نام:

     ابراہیم بن کنیف نبہانی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

      تَعَزَّ فَاِنَّ الصَّبْرَ بِالْحُرِّ اَجْمَل،               وَلَیْسَ عَلٰی رَیْبِ الزَّمَانِ مُعَوَّل،
ترجمہ:

    اے نفس!تو صبر کر بے شک صبرمعزز انسان کیلئے زیادہ مناسب ہے اور حوادث زمانہ پر کوئی اعتماد نہیں ہوتا۔

حل لغات:

    مُعَوَّل،:مفع۔(تفعیل)
عَوَّلَ الرَّجُلُ علیہِ:
بھروسہ کرنا،اعتماد کرنا۔کسی سے مدد چاہنا ۔
2۔۔۔۔۔۔

        فَلَوْکانَ یُغْنِیْ اَنْ یُّرَی الْمَرْءُ جازِعًا                  لِحادِثَۃٍ اَوْکانَ یُغْنِی التَّذَلُّل،
ترجمہ:

    اگر انسان کو مصیبت کے وقت بے صبری کرتے ہوئے دیکھا جانا یا ذلیل ہونا نفع دیتا۔

حل لغات:

    جَازِعًا:فا۔ جَزِعَ(س)جَزَعًا:گھبرا جانا،کسی آفت وتکلیف سے گھبرانا ، بے برداشت ہونا ، مایوس ہونا،پریشان ہونا،بے تاب ہونا،ڈرنا۔
3۔۔۔۔۔۔

          لَکانَ التَّعَزِّیْ عندَ کُلِّ مُلِمَّۃٍ                      وَنائِبَۃٍ بِالْحُرِّ اَوْلٰی واَجْمَل،
ترجمہ:

    تب بھی ہر مصیبت اور مشکل کے وقت صبرکرنا معززانسان کیلئے زیادہ مناسب اور اچھا ہوتا۔
Flag Counter