( لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ )(2/256)
وقال حریثُ بْنُ عَنَّابٍ اَلنَّبْھانِیُّ (الطویل)
شاعر کانام:
حریث بن عناب نبہانی ہے (متوفی 80ھ/700ء)یہ اسلامی شاعر ہیں۔ بنو اسد بن خزیمہ کو خطا ب کرتے ہوئے شاعرنے یہ اشعار کہے ۔
1۔۔۔۔۔۔
تَعَالَوْا اُفاخِرْکُمْ اَاَعْیا وَفَقْعَسٌ اِلَی الْمَجْدِ اَدْنٰی اَمْ عَشِیْرَۃُ حاتِمٖ
ترجمہ:
آؤمیں تم سے فخر میں مقابلہ کرتاہوں کیا اعیاا ورفقعس عظمت کے زیادہ قریب ہیں یا حاتم کا قبیلہ۔
نوٹ:
اعیا اور فقعس دونوں طریف بن عمرو کی اولاد ہیں، اوریہ بنو اسد بن خزیمہ کے دوقبیلے ہیں، اور حاتم کے قبیلے سے مراد عمرو بن غو ث کی اولاد ہیں۔
2۔۔۔۔۔۔
اِلٰی حَکَمٍ مِنْ قَیْسِ عَیْلانَ فَیْصَلٍ وَآخَرَ مِنْ حَیَّیْ رَبِیْعَۃَ عالِمٖ
ترجمہ:
آؤقیس بن عیلان کے فیصلہ کرنے والے حکم کی طرف اور دوسرے ربیعہ کے دونوں قبیلوں کے عالم کی طرف۔