اشعار کا پس منظر:
بنواسد کے دو گروپوں کی ایک کنویں پر لڑا ئی ہوگئی اور ہر گروپ کا دعوی تھا کہ یہ کنواں ہمارا ہے ،اس موقعے پرشاعر نے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔
کِلا اَخَوَیْنا اِنْ یُّرَعْ یَدْعُ قومَہ، ذَوِیْ جامِلٍ دَثْرٍ وجَیْشٍ عَرَمْرَمٖ
ترجمہ:
دونوں ہمارے بھائی ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کوڈرایاجائے تووہ ایسی قوم کو بلائے گا جو زیادہ اونٹوں والی اور بڑے لشکر والی ہے۔
حل لغات :
جَامِلٌ:اونٹوں کا گلہ ،ریوڑ(چرواہوں اور مالکوں سمیت)رَجُلٌ جَامِلٌ:اونٹوں والا آدمی ۔ دَثْرٌ:ہرزیادہ چیز(مصدر کی طرح بطورصفت واحدو جمع کے لئے استعمال ہوتاہے )بہت زیادہ مال ۔
فی الحدیث:((ذَھبَ اَہلُ الدُّثُورِ بِالاُجُورِ))۔عَرَمْرَمٌ:
زبردست، کثیر ۔ جَیشٌ عَرَمْرَمٌ:بھاری لشکر۔''جَیْشٍ''بیروت کے نسخہ میں''جمع''ہے۔
2۔۔۔۔۔۔
کِلا اَخَوَیْنا ذُوْ رِجالٍ کَاَنَّھُمْ اُسُوْدُ الشَّرٰی مِنْ کُلِّ اَغْلَبَ ضَیْغَمٖ
ترجمہ:
دونوں ہمارے بھائی ایسے آدمیوں والے ہیں جو شری جنگل کے موٹی گردن والے کاٹنے والے شیروں جیسے ہیں۔