1۔۔۔۔۔۔
اَلاَ اَبْلِغا خُلَّتِیْ راشِدًا وَصِنْوِیْ قدیمًا اِذا مَا اتَّصَلْترجمہ:
اے لوگو! میرے دوست اور پرانے ہم نشین راشدکویہ پیغام پہنچاؤجب وہ مددکے لئے پکارے۔
حل لغات :
خُلَّۃٌ:ایسی دلی دوستی جو سچی اور گہری ہو۔دوست(اس میں مذکر مؤنث اور مفرد، تثنیہ اور جمع بر ابرہیں)فی القرآن المجید:
(اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ) (2/254)
صِنْوِیْ:یہ یاء متکلم کی طرف مضاف ہے۔مماثل فرد۔ مثل،مقابل۔ایک درخت کی جڑسے دو یکساں اگنے والی شاخوں میں سے ایک۔
(وَفِی الۡاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِیۡلٌ صِنْوَانٌ وَّغَیۡرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ) (13/3)
سگا بھائی۔ج:صِنْوَانٌ واَصْنَاءُ۔
2۔۔۔۔۔۔
بِاَنَّ الدَّقیقَ یَھِیْجُ الْجَلِیلَ واَنَّ الْعَزِیزَ اِذَا شاءَ ذَلْترجمہ:
کہ چھوٹی بات بڑی کوبھڑکادیتی ہے اور معززجب چاہے ذلیل ہوجائے۔
حل لغات :
اَلدَّقِیْقُ:باریک،پتلا۔نازک۔گہرا۔بے فیض آدمی۔معمولی اورحقیر بات ۔ آٹا۔ ج:اَدِقَّۃٌ ودَقَائِقُ۔یھیج :ھَاجَ النَّبْتُ(ض)ھَیْجًا:
گھاس یاپودے کا سوکھ کرزرد ہوجانا،سوکھنے لگنا،کھیتی کاپکنے کے قریب ہونا،زورپرآنا۔
فی القرآن المجید:
(ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرّا)(57/20)
ھَاجَ القَومُ(ض)ھَیْجًا:
لوگوں کامشتعل ہونا،جوش میں آنا۔ الشَّرُّ:فتنہ کا زور پکڑنا۔الحرب بینھم:لوگوں میں جنگ کے شعلے بھڑکنا۔
3۔۔۔۔۔۔
واَنَّ الْحَزَامَۃَ اَنْ تَصْرِفُوْا لِحَیٍّ سِوَانا صُدُوْرَ الْاَسَلْترجمہ:
اوریہ کہ عقل مندی اس میں ہے کہ تم نیزوں کی نوکیں ہمارے علاوہ کسی اور قبیلے کی طرف پھیردو۔