Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
210 - 324
جَنَابُ القَومِ'':قوم کامقام سرسبز وشاداب ہے ۔اَجْدَبْتُمْ:(افعال)اَجْدَبَ المَکَانُ:بارش نہ ہونے کی وجہ سے کسی جگہ کا خشک ہوجانا۔القومُ:قحط سالی کا شکارہونا.
وقال اٰخر (البسیط)
شاعر کانام:

    عویف قوافی ہے،تبریز ی نے کہااس کانام :حکم بن زہرہ یاحکم بن مقدادبن حکم ہے۔
1۔۔۔۔۔۔

          اَللُّؤمُ اَکْرَمُ مِنْ وَبْرٍ وَوَالِدِہٖ                 وَاللُّؤمُ اَکْرَمُ مِنْ وَبْرٍ وَمَا وَلَدَا
ترجمہ:

     وبراور اس کے والد سے کنجوسی دور ہو،وبراوراس کی اولاد سے کنجوسی دورہو۔
2۔۔۔۔۔۔

           قومٌ اذا ماجَنٰی جانِیْھِمْ اَمِنُوْا                       مِنْ لُؤمِ اَحْسابِھِمْ اَنْ یُّقْتَلُوْا قَوَدَا
ترجمہ:

    وہ ایسی قوم ہے کہ جب ان میں سے کوئی مجرم جرم کرتاہے تووہ اپنے حسب کی مذمت سے بے خوف ہوتے ہیں کہ قصاصًا قتل کئے جائیں گے۔

مطلب:

    وہ ایسی طاقتور اور معزز قوم ہے کہ اگر ان کا کوئی فرد کسی کو قتل کردے تو ان کی جرأت نہیں کہ ان کے آدمی کو قتل کریں بلکہ وہ دیت لینے پر راضی ہوجاتے ہیں لہذا یہ نسب کے عیب دار ہونے کے اندیشے سے محفوظ ہیں ؛کیونکہ یہ اپنے لئے قتل کو عاراورذلت سمجھتے ہیں۔
3۔۔۔۔۔۔

          وَاللُّؤمُ دَاءٌ لِوَبْرٍ یُقْتَلُوْنَ بہٖ                       لایُقتَلُون بِداءٍ غیرِہ اَبَدَا
ترجمہ:

    اور وبر کے لئے کنجوسی ایک ایسی بیماری ہے جس سے قتل ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ کسی اور بیماری سے کبھی قتل نہیں ہوسکتے ۔

مطلب:

    وہ اپنے لئے کنجوسی کو زہر قاتل سمجھتے ہیں یعنی کنجوسی کا طعنہ سننا گوارہ نہیں کرتے اس صورت میں یہ ان کی شرافت و
Flag Counter