| دِيوانِ حماسه |
لے گئے حضرت سعید نے گرفتار ی کے لئے سپاہی روانہ کئے ،ہدبہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ،اس کے چچا اور دیگر دوشخصوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا پھر ہدبہ نے کچھ دیکر انہیں آزاد کرا لیاتو مقتول کے وارث حضرت امیر معاویہ رضی اﷲتعالی عنہ کے پاس مقدمہ لے کر گئے توفریقین نے اپنی اپنی صفائی پیش کی حضرت امیر معاویہ رضی اﷲتعالی عنہ نے ہدبہ سے خلوت میں واقعہ کی تفتیش کی تواس نے اقبال جرم کرلیا پھر مقتول کے وارثین سے پوچھا کیامقتول کا کوئی بیٹا ہے؟ جواب ملا جی ہاں ابھی وہ چھوٹا ہے، تو آپ نے اس کے بالغ ہونے تک فیصلہ مؤخر کردیا اور سعید بن عاص کو لیٹرلکھا کہ اس کے بالغ ہونے تک ہدبہ کو قید رکھو، جب مسور بڑا ہوکر قصاص طلب کرنے کیلئے مدینہ منورہ آیا توقریش کے بہت سے معزز حضرات نے جن میں حضرت امام حسین بن علی ،عبداﷲبن عمرو ، عمربن عثمان ،سعید بن عاص اور عبداﷲبن جعفر رضی اﷲ تعالی عنہم بھی شریک تھے ہدبہ کو قصاصًاقتل نہ کرنے کی درخواست کی اور سات گنا زیادہ دیت دینے کا وعدہ کیا(کیونکہ ہدبہ بڑے فصیح وبلیغ شاعر تھے)لیکن مسور نے انکار کرتے ہوئے فی البدیہ یہ اشعارکہے ۔
1۔۔۔۔۔۔
اَبْعَدَ الَّذِیْ بِالنَّعْفِ نَعْفِ کُوَیْکِبٍ رَھِیْنَۃِ رَمْسٍ ذِی تُرَابٍ وجَنْدَلٖترجمہ:
کیااس شخص کے بعدجوکویکبپہاڑ کے پہلومیں مٹی اور پتھروں والی قبرمیں دفن ہے۔
حل لغات :
النَّعْفِ:نشیب وفرازوالی اونچی جگہ۔ج:نِعَافٌ۔ کُوَیْکِبٌ:پہاڑکانام ہے ۔ رَھِیْنَۃٌ:گروی رکھی ہوئی چیز،کسی چیز کے عوض روکی ہوئی چیز۔فی القرآن المجید:
(کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ)(74/38)
پابندآدمی ،یرغمال۔ ج:رَھَائِنُ۔ رَمْسٍ:قبر (جو زمین کے برابر ہو)قبر پر ڈالی جانے والی مٹی ۔دھیمی آواز۔ج:
رُمُوسٌ واَرْمَاسٌ۔ جَنْدَلٌ:
نہر کے بہاؤکی وہ جگہ جہاں پتھر ہوتے ہیں اور پانی زور سے بہتاہے ۔ چٹان۔ج:جَنَادِلُ۔
2۔۔۔۔۔۔
اُذَکَّرُ بِالْبُقْیَا عَلٰی مَنْ اَصَابَنِی وَبُقْیَایَ اَنِّی جَاھِدٌ غَیْرُ مُؤتِلٖترجمہ:
مجھے اس شخص پررحم کی اپیل کی جاتی ہے جس نے مجھے مصیبت پہنچائی میرارحم تویہ ہے کہ کوشش کروں سستی نہ کروں۔
حل لغات :
مُوَئتِلٖ:فا۔کوتاہی کرنے والا (افتعال)اِئْتَلٰی:قسم کھانا۔اَلا(ن)اَلْوًا:کوشش کرنا۔ سست وکمزورہونا۔کوتاہی کرنا۔