Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
206 - 324
مطلب:

    ہم ایسانہیں کرتے کہ اپنی قوم کے تمام افراد کو اپنے جیسا ہی سمجھتے ہیں اور جب وہ ہم سے بات چیت کریں تو ہم ان سے بات چیت کرتے ہوئے حقارت محسوس نہیں کرتے بلکہ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اس سے ہماری عزت کم نہیں ہوتی ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
 ((مَن تَوَاضَعَ ﷲرَفَعَہُ اﷲ))
جو اﷲتعالی کے لئے عاجزی و انکساری کرے تو اﷲتعالی اسے بلندکرتاہے۔ 

حل لغات :

     تَزْدَھِیْ:(افتعال)اِزْدَھٰی:مغرور ومتکبر ہونا۔الشیءُ فلان وبہٖ:کسی چیز کا کسی کو حقیر و ذلیل بنانا۔الْکِبْرِ یَاءُ:(مؤنث)تکبر،اطاعت سے بالاتری کا احساس ،عزت نفس۔ اقتدار، حکومت۔
فی القرآن المجید:
 (وَتَکُونَ لَکُمَا الْکِبْرِیَاء فِیْ الأَرْضِ) (10/78)
نَزْرًا:مص۔ نَزَرَ الشیئَ(ن)نَزْرًا:کم کرنا۔فلانًا:کسی کو حقیر وکم درجہ سمجھنا۔ اکسانا ، کسی کام میں عجلت کرا نا ، کسی کے پاس سے تھوڑا تھوڑا کرکے سب کچھ نکلوالینا۔اصرار کرکے لینا ۔ یہاں موصوف محذوف ہے یعنی کلامًا نَزْرًا۔
1۔۔۔۔۔۔

           وَنَحْنُ بَنُوْ مَاءِ السَّمَاءِ فَلا نَرٰی                 لِاَنْفُسِنَا مِن دُوْن ِمَمْلَکَۃٍ قَصْرًا
ترجمہ:

    ہم بادشاہ کی اولاد ہیں اس لئے ہم اپنے لئے سلطنت کے علاوہ کوئی جگہ مناسب نہیں سمجھتے۔

حل لغات :

    مَمْلَکَۃ:حکمرانی واقتدار۔قَصْرَا:مد کی ضد،عدم کشش۔کوتاہی۔عجز وبے بسی۔آخری درجہ، آخری حد۔محل (کشادہ اور شان دار مکان)کوٹھی۔ج:قُصُوْرٌ۔رات کا ابتدائی وقت ،شام
وقالَ ابْنُہ، مِسْوَرٌ حِیْنَ عَرَضَ عَلَیْہِ سَعِیْدُ بْنُ الْعاصِ سَبْعَ دِیاتٍ فَاَبٰی (الطویل)
شاعرکانام:

    مسوربن زیادہ حارثی ہے اوریہ اسلامی شاعرہیں۔ 

اشعار کا پس ِمنظر:

    ان کے باپ زیادہ کو ہدبہ بن خشرم نے قتل کیاتو زیادہ کے بھائی سعید بن عاص گورنر مدینہ منورہ کے پاس مقدمہ
Flag Counter