(وَتَکُونَ لَکُمَا الْکِبْرِیَاء فِیْ الأَرْضِ) (10/78)
نَزْرًا:مص۔ نَزَرَ الشیئَ(ن)نَزْرًا:کم کرنا۔فلانًا:کسی کو حقیر وکم درجہ سمجھنا۔ اکسانا ، کسی کام میں عجلت کرا نا ، کسی کے پاس سے تھوڑا تھوڑا کرکے سب کچھ نکلوالینا۔اصرار کرکے لینا ۔ یہاں موصوف محذوف ہے یعنی کلامًا نَزْرًا۔
1۔۔۔۔۔۔
وَنَحْنُ بَنُوْ مَاءِ السَّمَاءِ فَلا نَرٰی لِاَنْفُسِنَا مِن دُوْن ِمَمْلَکَۃٍ قَصْرًا
ترجمہ:
ہم بادشاہ کی اولاد ہیں اس لئے ہم اپنے لئے سلطنت کے علاوہ کوئی جگہ مناسب نہیں سمجھتے۔
حل لغات :
مَمْلَکَۃ:حکمرانی واقتدار۔قَصْرَا:مد کی ضد،عدم کشش۔کوتاہی۔عجز وبے بسی۔آخری درجہ، آخری حد۔محل (کشادہ اور شان دار مکان)کوٹھی۔ج:قُصُوْرٌ۔رات کا ابتدائی وقت ،شام
وقالَ ابْنُہ، مِسْوَرٌ حِیْنَ عَرَضَ عَلَیْہِ سَعِیْدُ بْنُ الْعاصِ سَبْعَ دِیاتٍ فَاَبٰی (الطویل)
شاعرکانام:
مسوربن زیادہ حارثی ہے اوریہ اسلامی شاعرہیں۔
اشعار کا پس ِمنظر:
ان کے باپ زیادہ کو ہدبہ بن خشرم نے قتل کیاتو زیادہ کے بھائی سعید بن عاص گورنر مدینہ منورہ کے پاس مقدمہ