| دِيوانِ حماسه |
ترجمہ:
بے شک جس غیر ت اور عصبیت کاتجھ سے ذکر کیاگیاہے ہماری ناکوں اور گردنوں میں جیسی تھی ویسی ہی ہے۔
مطلب:
قحط سالی کے باوجود ہماری عظمت وشرافت ختم نہیں ہوئی ۔ناک اور گردن کا ذکر اس لئے کیاکہ کسی بات کا انکار کرتے ہوئے اکثر لوگ ناک چڑھاتے ہیں یاگردن ہلاتے ہیں۔
حل لغات :
حُدِّ ثْت:(تفعیل)حَدَّثَ:کلام کرنا،خبر دینا،بیان کرنا۔رسول اﷲصل اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم
کی حدیث بیان کرنا۔بِالنِعْمَۃِ:اظہار نعمت کرنا،نعمت پر شکراداکرنا۔
فی القرآن المجید:
(وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّث)۔(93/11)
فلانًا الحدیثَ وبِہ:
کسی سے حدیث بیان کرنا،خبر دینا۔عن فلانٍ:روایت کرنا۔
وقالَ زِیَادَۃُ الْحَارِثِیُّ (الطویل)
شاعر کانام :
زیادہ حارثی ہے اور یہ اسلامی شاعر ہیں۔انہیں ہدبہ بن خشرم نے قتل کیاتھا ۔1۔۔۔۔۔۔
لَمْ اَرَ قَوْمًا مِثْلَنَا خَیْرَ قَوْمِھِمْ اَقَلَّ بِہٖ مِنَّا عَلٰی قَوْمِھِمْ فَخْرًاترجمہ:
میں نے کسی ایسے قبیلے کو نہیں دیکھا جو اپنی قوم میں ہماری طرح سب سے بہتر ہونے کے باوجود اپنی قوم پر ہم سے کم فخر کرتاہو۔
حل لغات :فَخْرًا:مص۔فَخَرَالرَّجُلُ(ف)فَخْرًا:
اپنی یا اپنی قوم کی خوبیوں پر ناز کرنا ، فخر کرنا، فوقیت جتانا(اپنے لئے کسی خوبی کو ذریعہ اعزاز سمجھنا)تکبر کرنا،غرور کرنا۔
2۔۔۔۔۔۔
ومَا تَزْدَھِیْنَا الْکِبْرِیَاءُ عَلَیْھِمْ اِذَا کَلَّمُوْنَا اَنْ نُکَلِّمَھُمْ نَزْرًاترجمہ:
ان پر ہماری عظمت کم نہیں ہوتی اس وجہ سے کہ جب وہ ہم سے بات کریں توہم ان سے تھوڑا کلام کریں۔