(صَلَّ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ )
تشر یف لائے ہیں لوگ لڑکیوں کی پرورش کرنے لگے ہیں۔
مطلب:
سرکارمدینہ سرورِ قلب وسینہ صاحبِ مُعَطَّرْپسینہ
صَلَّ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ
کی تشریف آوری سے پہلے عرب کے لوگ بچیوں کو زندہ دفن کردیاکرتے تھے آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ
نے اس فعلِ بدسے منع فرمایااور بچیوں کی پرورش کرنے پر اجروانعام کا وعدہ فرمایاتو لوگ اپنی بچیوں کی پرورش کرنے لگے لہذاہم بھی اپنی لڑکی کی پر ورش خود کریں گے اسے تیرے حوالے نہیں کرسکتے۔
نوٹ:
دیوان حماسہ کے بعض نسخوں میں''غدا''ہے جب کہ شرح مرزوقی اور بیروت کے دیگر نسخوں میں ''غذا''ہے اور یہی صحیح ہے اور اسی کے مطابق شعر میں لکھا گیاہے۔
حل لغات :
الْجَوَارِیَا:مف:الجَارِیَۃُ:باندی۔کم سن عورت،لڑکی۔ نوکرانی۔ آفتاب ۔ کشتی۔
(حَمَلْنَاکُمْ فِیْ الْجَارِیَۃِ)(69/11)
5۔۔۔۔۔۔
وَاِنَّ الَّتِیْ حُدِّثْتَھَا فِیْ اُنُوْفِنَا واَعْنَاقِنَا مِنَ اللْاِبَاءِ کَمَا ھِیَا