ترجمہ:
ابن کوز نے ہم سے شہزادی کارشتہ طلب کرکے سرکشی کی اس وجہ سے کہ ہم چنددن قحط میں مبتلا ہوئے اور بے وقوفی اپنے نام جیسی ہے ۔
اٹھا لے جایہ اپنادام ودانہ
مجھے مت صید کر چالاک ہوکر
یَسْتَادُ:(افتعال)اِ سْتَادَ القَوْمُ:
لوگوں کا اپنے سردار کو قتل کرنا۔سردار سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنا۔
شَتَوْنَا:شَتَا القَوْمُ (ن)شَتْوًا:
موسم سرمامیں داخل ہونا۔سردی کے موسم میں خشک سالی کی مصیبت جھیلنا۔
2۔۔۔۔۔۔
فَمَا اَکْبَرُ الْاَشْیَاءِ عِنْدِیْ حَزَارَۃً بِاَنْ اُبْتَ مَزْرِیًّا عَلَیْکَ وَزَارِیَا
ترجمہ:
میرے نزدیک اس سے بڑھ کرکوئی غم نہیں کہ تواس حال میں لوٹے کہ عیب لگایا جائے اور عیب لگانے والاہو۔
حل لغات :
حَزَارَۃً:غصہ وغیرہ جس کی وجہ سے دل میں درد ہو۔کلام کی کج روی۔ ج:حَزَازَاۃٌ۔ مَزْرِیًّا:اسم ظرف۔اس میں''ی''نسبت کی ہے۔زَارِیٌ:فا۔ زَرَی علیہ(ض)زَرْیًا:عیب لگانا، عتاب کرنا۔علیہ عَمَلَہٗ:کسی کام میں عیب نکالنا،اظہار ناراضگی کرنا۔