Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
203 - 324
صَوْلاً:حملہ کرنا،مغلوب کرنے کے لئے کسی پر جھپٹنا،کسی پر جست لگانا،کود پڑنا۔
قَالَ جَزْءُ وبْنُ کُلَیْبٍ الْفَقْعَسِیُّ (الطویل)
شاعرکانام: 

    جزء وبن کلیب فقعسی ہے۔

اشعار کا پس منظر:

     یہ شاعر قحط کے زمانہ میں یزید بن حزیفہ بن کوزاسدی کے پاس رہنے لگا،اسی اثناء میں یزیدنے اس سے بیٹی کا رشتہ طلب کیاتو شاعرنے انکار کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔

             تَبَغّٰی ابْنُ کُوْزٍ وَالسَّفَاھَۃُ کَاِسْمِھَا            لِیَسْتَادَ مِنَّا اَنْ شَتَوْنَا لَیَالِیَا
ترجمہ:

    ابن کوز نے ہم سے شہزادی کارشتہ طلب کرکے سرکشی کی اس وجہ سے کہ ہم چنددن قحط میں مبتلا ہوئے اور بے وقوفی اپنے نام جیسی ہے ۔
                      اٹھا  لے  جایہ  اپنادام  ودانہ

                      مجھے مت صید کر چالاک ہوکر
حل لغات :
    یَسْتَادُ:(افتعال)اِ سْتَادَ القَوْمُ:
لوگوں کا اپنے سردار کو قتل کرنا۔سردار سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنا۔
شَتَوْنَا:شَتَا القَوْمُ (ن)شَتْوًا:
موسم سرمامیں داخل ہونا۔سردی کے موسم میں خشک سالی کی مصیبت جھیلنا۔
2۔۔۔۔۔۔

            فَمَا اَکْبَرُ الْاَشْیَاءِ عِنْدِیْ حَزَارَۃً                  بِاَنْ اُبْتَ مَزْرِیًّا عَلَیْکَ وَزَارِیَا
ترجمہ:

     میرے نزدیک اس سے بڑھ کرکوئی غم نہیں کہ تواس حال میں لوٹے کہ عیب لگایا جائے اور عیب لگانے والاہو۔ 

حل لغات :

    حَزَارَۃً:غصہ وغیرہ جس کی وجہ سے دل میں درد ہو۔کلام کی کج روی۔ ج:حَزَازَاۃٌ۔ مَزْرِیًّا:اسم ظرف۔اس میں''ی''نسبت کی ہے۔زَارِیٌ:فا۔ زَرَی علیہ(ض)زَرْیًا:عیب لگانا، عتاب کرنا۔علیہ عَمَلَہٗ:کسی کام میں عیب نکالنا،اظہار ناراضگی کرنا۔
Flag Counter