دیوان الحماسہ (ص43۔دار الکتب العلمیۃ ۔بیروت لبنان)اور شرح مرزوقی (ج1ص175)
میں ہے تو مطلب ہوگا کہ آل شداداگر مدد طلب کرنے لئے نکلیں تو انہیں اونٹنی کابچہ بھی کوئی نہیں دے گا۔جب آل شداداتنے تنگ دست اور حقیر لوگ ہیں تو ہم پر فخر کس وجہ سے کررہے ہیں۔ عرب میں دستورتھا کہ غریب رسی لے کر نکلتا اور لوگوں سے مددکی اپیل کرتاتووہ اسے اونٹنی، گائے،بکری وغیرہ کا بچہ دیتے تھے۔
حل لغات :
فَصِیْلُ:اونٹنی یا گائے کا وہ بچہ جس کا دودھ چھڑاکر ماں سے الگ کردیا گیا ہو۔شہر کی چاردیواری ۔ شہر پناہ کے قریب، یہ سُوْرسے چھوٹی ہوتی ہے۔ج:فُصْلَانٌ وفِصَالٌ۔
2۔۔۔۔۔۔
فَاِنْ تَغْمِزْ مَفَاصِلَنَا تَجِدْھَا غِلاظًا فِی اَنَامِلِ مَن یَّصُوْل،
ترجمہ:
اگر تو ہمارے جوڑوں کودباکر دیکھے توانہیں حملہ آورکی انگلیوں میں سخت پائے گا۔
مطلب:
اگرکوئی ہماری جرأت وبہادری کاامتحان لے توہم پر غالب نہیں آسکتا۔
حل لغات :
تَغْمِزَ:غَمَزَ(ض)غَمْزًا:ہاتھ سے ٹٹولنا(ہاتھ لگاکر دیکھناکہ کیساہے)یَّصُوُل،:صَالَ علیہ(ن)