ترجمہ:
اورعظمت کی وہ کون سی وادی ہے جسے ہم نے سرنہ کیا اورتم غضبناک ہوکر ہم پردانت پیستے رہے ۔
حل لغات :
غِضَابٌ:مف:غَضِبٌ۔غضِب علیہ(س)غَضَبًا:
کسی پر غصہ ہونا، ناراض ہونااور انتقام کاارادہ کرنا۔
تَحْرِقُونَ:حَرَقَ اَنْیَابَہ،:
دانت پیسنا،دانتوں کو رگڑنا۔
وقال سَبْرَۃُ بْنُ عَمْرِو الْفَقْعَسِیُّ (الطویل)
شاعر کانام:
سبرۃ بن عمرو فقعسی ہے اور یہ جاہلی شاعرہے۔
اشعار کا پس ِ منظر:
عبادتمیمی اور معبداسدی ، عرب کے حاکم ضمرہ بن ضمرہ نہشلی تمیمی کے پاس مقدمہ لے گئے ،ضمرہ نے عباد کو ترجیح دی توبنواسد ناراض ہو گئے ،مسئلہ ذاتیات تک پہنچا ،ضمرہ نے شاعر(اس کا تعلق بنواسدسے ہے)کو طعنہ دیاکہ تو کنجوس ہے مہمان نوازی نہیں کرتا اسی لئے تیرے پاس اونٹ اور دودھ زیادہ ہے، اس موقع پرشاعرنے ضمرہ کو خطاب کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ۔