Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
200 - 324
حل لغات :

    جَدَعَہ،(ف)جَدْعًا:ناک کاٹنا،بدن کا کوئی حصہ کاٹنا۔قید کرنا۔جیل میں ڈالنا۔شَراہُ(ض) شِرًا:بیچنا۔
4۔۔۔۔۔۔

           ونَحْنُ غَلَبْنَا بِالْجِبَالِ وعِزِّھَا                        ونحن وَرِثْنَا غَیِّثًا وَّبُدَیْنَا
ترجمہ:

    ہم پہاڑوں اوران کی بلندیوں کی وجہ سے غالب ہوئے اور ہم ہی غیث اور بدین کے جانشین ہیں۔

حل لغات :

    عِزٌّ:عزت و آبرو۔طاقت ،غلبہ۔شدت۔سخت بارش۔عِزُّ الجِبَالِ:پہاڑوں کی بلندی۔
5۔۔۔۔۔۔

        وَأَیُّ ثَنَایَا الْمَجْدِ لَمْ نَطَّلِعْ لَھَا                       واَنْتُمْ غِضَابٌ تَحْرِقُونَ عَلَیْنَا
ترجمہ:

    اورعظمت کی وہ کون سی وادی ہے جسے ہم نے سرنہ کیا اورتم غضبناک ہوکر ہم پردانت پیستے رہے ۔

حل لغات :
    غِضَابٌ:مف:غَضِبٌ۔غضِب علیہ(س)غَضَبًا:
کسی پر غصہ ہونا، ناراض ہونااور انتقام کاارادہ کرنا۔
تَحْرِقُونَ:حَرَقَ اَنْیَابَہ،:
دانت پیسنا،دانتوں کو رگڑنا۔
وقال سَبْرَۃُ بْنُ عَمْرِو الْفَقْعَسِیُّ (الطویل)
شاعر کانام: 

    سبرۃ بن عمرو فقعسی ہے اور یہ جاہلی شاعرہے۔

اشعار کا پس ِ منظر:

    عبادتمیمی اور معبداسدی ، عرب کے حاکم ضمرہ بن ضمرہ نہشلی تمیمی کے پاس مقدمہ لے گئے ،ضمرہ نے عباد کو ترجیح دی توبنواسد ناراض ہو گئے ،مسئلہ ذاتیات تک پہنچا ،ضمرہ نے شاعر(اس کا تعلق بنواسدسے ہے)کو طعنہ دیاکہ تو کنجوس ہے مہمان نوازی نہیں کرتا اسی لئے تیرے پاس اونٹ اور دودھ زیادہ ہے، اس موقع پرشاعرنے ضمرہ کو خطاب کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ۔
Flag Counter