Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
197 - 324
قال یَزِیْدُ بْنُ الْحَکَمِ الْکِلابِیُّ (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔

           َفَعْناکم بِالْقَوْلِ حَتّٰی بَطِرْتُمْ                   وَبِالرَّاحِ حَتّٰی کانَ دَفْعُ الْاَصابِعٖ
ترجمہ:

    ہم نے تمہیں بات چیت کے ذریعے دور کیاتوتم اترانے لگے اورہتھیلیوں سے دور کیا یہاں تک کے معاملہ طمانچوں تک پہنچا۔

مطلب:

    شاعر اپنے چچازاد بھائیوں کو خطاب کررہاہے کہ ہم نے بات چیت کے ذریعے معاملہ سلجھانا چاہاتوتم اسے ہماری کمزوری سمجھنے لگے پھر ہم نے تھوڑ سی سختی کی جب اس سے بھی کام نہ چلاتو دہمکی اور ڈانٹ ڈپٹ سے مسئلہ حل کرنا چاہا۔

حل لغات :
    بَطِرْتُم:بَطِرَ(س)بَطَرًا:
اترانا،اکڑنا،پھولا نہ سمانا،آپے سے باہر ہونا۔ بہ:بوجھل ہونا۔گھبرانا۔کفران نعمت کرنا،نعمت کو ٹھکرانا،حقیر سمجھنا۔اَلرّاحُ:مف:الراحَۃُ: ہتھیلی۔ خوشی،راحت،اطمینان۔بیوی۔صحن۔
2۔۔۔۔۔۔

         فلمَّارَأیْنَا جَھْلَکُمْ غَیْرَ مُنْتَہٍ              وماغابَ مِنْ اَحْلامِکُمْ غَیْرَ رَاجِعٖ
ترجمہ:

    جب ہم نے دیکھا کہ تمہاری جہالت ختم ہونے والی نہیں اورنہ ہی تمہاری کھوئی ہوئی عقلیں واپس آسکتی ہیں ۔

حل لغات :

    اَحْلَامٌ:مف:الحِلْمُ:برد باری ،دور اندیشی،ضبط وتحمل۔عقل وخرد۔
فی القرآن المجید:
اَمْ تَاۡمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ۔(52/32)
3۔۔۔۔۔۔

             مَسِسْنَا مِنَ الْآباءِ شَیْئًا وکُلُّنَا          اِلٰی حَسَبٍ فِیْ قَوْمِہٖ غَیْرِوَاضِعٖ
ترجمہ:

    توہم نے اپنے باپ داداکے بارے میں تحقیق کی(تومعلوم ہواکہ)ہم سب اپنی قوم میں ایسے نسب سے ہیں جوگراہوانہیں۔

حل لغات :

    واضع:فا۔گھٹیا،رذیل۔
Flag Counter