Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
195 - 324
5۔۔۔۔۔۔

          اَکُلُّ امْرِءٍ اَلْفٰی اَباہُ مُقَصِّرًا                        مُعادٍ لِاَھْلِ الْمَکْرُماتِ الْاَوَائِلٖ
ترجمہ:

    کیاہروہ شخص جس نے اپنے باپ کوکوتاہ پایاسابقہ شرفاء سے دشمنی کرتاہے۔

حل لغات :
    مقصرا:فا۔قَصَّرَ فلان عن الامر:
کسی کام سے عاجز وبے بس ہونا۔ عاجز ہوکر چھوڑد ینا ،کسی کام کو کرنے میں ناکام رہنا۔فی الامر:کسی کام میں سستی برتنا،کوتاہی کرنا۔
6۔۔۔۔۔۔

            اِذَاذُکِرَتْ مَسْعاۃُ وَالِدِہٖ اِضْطَنٰی             ولایَضْطَنِیْ مِنْ شَتْمِ اَھْلِ الْفَضائِلٖ
ترجمہ:

    جب اس کے باپ کے کارنامے بیان کئے جائیں تو سکڑجاتاہے اور اہل فضائل کوگالی دیتے ہوئے نہیں سکڑتا۔

حل لغات :

    مسعاۃ:مص۔کوشش۔یہاں برے کارنامے مرادہیں۔یضطنی(افتعال )ضَنِی (س)ضَنًی:سخت بیمار ہونا جس سے ڈھیلا اور دبلاہوجائے۔
7۔۔۔۔۔۔

            ومامَنُعَتْ دارٌ ولاعَزّ اَھْلُہا                    مِنَ النَّاسِ اِلَّابِالْقَنا وَالْقَنابِلٖ
ترجمہ:

    کوئی گھرمحفوظ ہوسکتاہے نہ اسکے رہنے والے معززہوسکتے ہیں مگرنیزوں اورگھوڑوں سے۔
آتجھ کو  بتاؤں  تقدیر  ِاُمم  کیا ہے

شمشیر وسنان اوّل طاؤس رباب آخر
حل لغات :

    اَلقَنابِل:مف:القَنْبَلَۃُ:گھوڑوں یا لوگوں کی جماعت۔
وقال بعضُ بَنِیْ فَقْعَسٍ (الکامل)
شاعر کانام:

    مرداس بن جشیش ہے۔ ابو محمد اعرابی نے ایساہی کہاہے۔
Flag Counter